حضورﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اسے بے دین اور منکر اسلام سمجھتا ہوں اور اس کو دین اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۵۵)
مرزاقادیانی کے ہر دو بیانات کا خلاصہ یہ نکلا کہ: ’’اے لوگو! میں خانۂ خدا میں کھڑا ہوکر خدا اور اس کے رسول کو گواہ کر کے عوام الناس کے سامنے حلفیہ طور پر اس امر کا اقرار کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رکھتا ہوں۔ حضورﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں۔ میں منکر عقائد اہل اسلام نہیں۔ میرا یہ ایمان ہے کہ نبوت حضرت آدم صفی اﷲ سے شروع ہوکر نبی کریمﷺ پر ختم ہوگئی۔ میں ہرگز ہرگز مدعی نبوت نہیں۔ میں حضورﷺ کے بعد مدعی نبوت ورسالت کو کافر، کاذب، بے دین، منکر اسلام اور دین اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘
اس کے بعد لاہور میں مرزاقادیانی کے ساتھ مولوی غلام دستگیر قصوریؒ کا مناظرہ ہوا تو مرزاقادیانی نے ۲۰؍شعبان ۱۳۱۴ھ کو ایک تحریر لکھ کر مولوی صاحب کے نام بدیں الفاظ بھیج دی کہ: ’’ان پر (یعنی غلام دستگیر قصوری پر) واضح ہو کہ ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں اور ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ کے قائل ہیں۔ (مندرجہ اشتہارات ج۲ ص۲۹۷) اور ان مذکورہ بالا بیانات کی تائید میں مرزاقادیانی نے وقتاً فوقتاً حسب ذیل بیانات دئیے۔ ملاحظہ ہو کہ:
۱… ’’میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘
(آسمانی فیصلہ ص۳، خزائن ج۴ ص۳۱۳)
۲… ’’مکفرین کے اعتراضوں میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ہے… اور اﷲ جانتا ہے کہ ان کا یہ قول صریح کذب ہے اور اس میں ذرہ بھی سچائی کی چاشنی نہیں اور نہ اس کا کوئی اصل ہے۔‘‘ (حمامتہ البشریٰ ص۸۱، خزائن ج۷ ص۳۰۰)
۳… ’’میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے یہ آپ کس خیال سے کہہ رہے ہیں کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرے وہ نبی بھی ہو جاتا ہے۔‘‘
(جنگ مقدس ص۷۴، خزائن ج۶ ص۱۵۶)
۴… ’’افتراء کے طور پر ہم پر تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔‘‘
(کتاب البریہ ص۱۹۷، خزائن ج۱۳ ص۲۱۵)