… ’’جاہل مخالف میری نسبت یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مجھے ایسا کوئی دعویٰ نہیں۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص۱۲، خزائن ج۱۸ ص۲۱۶)
۶… ’’جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے کہ یہ دعویٰ نبوت کا کرتے ہیں وہ جھوٹا اور ناپاک خیال ہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص۱۲، خزائن ج۱۸ ص۲۱۶)
۷… ’’اس عاجز نے موجودہ علماء کے مقابل پر… کئی مرتبہ خدا کی قسمیں کھا کر کہا کہ میں کسی نبوت کا مدعی نہیں۔ مگر پھر بھی یہ لوگ تکفیر سے باز نہیں آتے۔‘‘
(مکتوبات بنام مولوی احمد اﷲ امرتسری، اخبار الحکم قادیان ج۸ نمبر۳)
۸… ’’ان لوگوں نے میرے بیانات کو نہیں سمجھا۔ خاص کر نذیر حسین پر بہت افسوس ہے جس نے پیرانہ سالی میں اپنے تمام معلومات کو خاک میں ملادیا۔‘‘
(نشان آسمانی ص۳۱، خزائن ج۴ ص۳۹۱)
۹… ’’ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ اس نالائق نذیر حسین اور اس کے ناسعادت مند شاگرد محمد حسین کا یہ سراسر افتراء ہے کہ ہماری طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ گویا… ہم خود دعویٰ نبوت کرتے ہیں۔‘‘ (انجام آتھم ص۴۵، خزائن ج۱۱ ص۴۵)
۱۰… ’’جھوٹے الزام مجھ پر مت لگاؤ کہ حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ کیا تم نے نہیں پڑھا کہ محدث بھی ایک مرسل ہوتا ہے۔کیا قرأت ولا محدث کی یاد نہیں رہی۔ پھر یہ کیسی بیہودہ نکتہ چینی ہے کہ مرسل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔‘‘ (سراج منیر ص۳، خزائن ج۱۲ ص۵)
۱۱… ’’نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدث کا دعویٰ ہے۔ جو خدا کے حکم سے کیاگیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۴۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۰)
چنانچہ مرزاقادیانی کے اتنا واویلا کرنے پر بھی مسلمان علماء اپنے مؤقف پر پورے طور پر ڈٹے رہے اور اپنا فتویٰ واپس لینے کے واسطے ہرگز ہرگز تیار نہ ہوئے۔
جب مرزاقادیانی نے یہ دیکھا کہ میرا اتنا واویلا کرنے پر بھی علماء محمدیہ میرے گلے سے کفر کا ہار اتارنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی مجھے مسلمان ماننے کو تیار ہیں اور نہ ہی عوام الناس کا سینہ میری طرف سے صاف ہوا ہے۔ بلکہ آگے سے بھی مجھے بری نگاہ سے دیکھتے ہیں تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ سب کچھ علماء محمدیہ کی تحریر وتقریر کا نتیجہ ہے تو انہوں نے انتقامی جذبات کے تحت علماء محمدیہ کو بمعہ ان مسلمانوں کے کہ جو علماء کو فتویٰ دینے میں حق بجانب سمجھتے تھے کس انداز میں کافر