انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے شامل حال ہوگئیں۔ جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھی اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہوگیا۔ پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی اور ان کے زمانہ کو یاد کیا۔ لیکن میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا۔ بلکہ میں ان کی وفات کے بعد اﷲ جلشانہ، کی طرف جھک گیا اور ان میں جاملا جنہوں نے دنیا کا تعلق توڑ دیا اور میرے رب نے اپنی طرف مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے نکال کر اپنی مقدس جگہ میں لے آیا اور مجھے اس نے دیا جو کچھ دیا اور مجھے ملہموں اور محدثوں میں سے کر دیا۔ سو میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے۔ بجز اس کے کہ عمدہ گھوڑے قلموں کے مجھ کو عطاء کئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دے گئے اور وہ نور مجھ کو عطاء ہوا جو مجھے لغزش سے بچاتا اور راست روی کے آثار مجھ پر ظاہر کرتا ہے۔ پس اس الٰہی اور آسمانی دولت نے مجھے غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں میں داخل کیا۔ میں نے چاہا کہ اس مال کے ساتھ گورنمٹ برطانیہ کی مدد کروں۔ اگرچہ میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو نہیں اور نہ میں مالدار ہوں۔ سو میں اس کی مدد کے لئے اپنی قلم اور اپنے ہاتھ سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے خداتعالیٰ سے عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا۔ جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے اور باوجود اس کے میرے دل میں یہ بھی تھا کہ میں قیصرہ مکرمہ کو دعوت اسلام کروں اور اس رب کی طرف اس کی رہنمائی کروں جو درحقیقت مخلوقات کا رب ہے۔ کیونکہ اس کا احسان ہم پر اور ہمارے باپ دادا پر ہے اور احسان کا عوض بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ہم اس کی دنیا کی خیر اور اقبال کے لئے دعاکریں اور اس کے عقبیٰ کے لئے خداتعالیٰ سے یہ مانگیں کہ اسلامی توحید کی راہ اس کے نصیب کرے اور حق کی راہوں پر چلے اور اس بادشاہ کی بزرگی کی قائل ہو جو غیب کی باتیں جانتا ہے اور اس رب کو پہچانے جو اکیلا اور تمام مخلوق کا مرجع اور نہ مولود اور نہ والد ہے اور اس کو ابدی نعمتیں ملیں۔
سو میں نے کئی کتابیں تالیف کیں اور ہر ایک کتاب میں، میں نے لکھا کہ دولت برطانیہ مسلمانوں کی محسن ہے اور مسلمانوں کی اولاد کا ذریعہ معاش ہے۔ پس کسی کو ان سے جائز نہیں جو اس پر خروج کرے اور باغیوں کی طرح اس پر حملہ آور ہو۔ بلکہ ان پر اس گورنمنٹ کا شکر