ہماری خدمات نمایاں ہیں اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ کبھی ان خدمات کو بھلا دے گی اور میرا باپ مرزاغلام مرتضیٰ ابن مرزا عطاء محمد رئیس قادیان اس گورنمنٹ کے خیرخواہوں اور مخلصوں میں سے تھا اور اس کے نزدیک صاحب مرتبہ تھا اور صدر نشین بالین عزت سمجھا گیا تھا اور یہ گورنمنٹ اس کو خوب پہچانتی تھی اور ہم پر کبھی کوئی بدگمانی نہیں ہوئی۔ بلکہ ہمارا اخلاص تمام لوگوں کی نظروں میں ثابت ہوگیا اور حکام پر کھل گیا۔
اور سرگار انگریزی ان حکام سے دریافت کر لیوے جو ہماری طرف آئے اور ہم میں رہے اور ہم نے ان کی آنکھوں کے سامنے کیسی زندگی بسر کی اور کس طرح ہم ہر ایک خدمت میں سبقت کرنے والوں کے گروہ میں رہے۔
اور ان حقیقتوں کے مفصل بیان کرنے کی کچھ حاجت نہیں۔ کیونکہ سرکار انگریزی ہمارے مراتب خلوص اور انواع خدمات پر اطلاع رکھتی ہے اور ان اعانتوں کو جانتی ہے جو وقتاً فوقتاً ہم سے ظہور میں آئیں۔ خاص کر دہلی کے زمانۂ فساد میں۔
اور اس گورنمنٹ کو یہ معلوم ہے کہ میرے والد نے کیونکہ اس کو ایسے وقت میں مدد دی کہ جب لڑائیوں کی ایک سخت آندھی چل رہی تھی اور فتنے بھڑک رہے تھے اور حد سے تجاوز کر گئے تھے۔ سو میرے والد نے اس مفسدہ کے دنوں میں پچاس گھوڑے مع سوار اس گورنمنٹ کو امدادکے طور پر دئیے اور اپنی حیثیت کے لحاظ سے امداد میں سب سے بڑھ گیا۔ باوجودیکہ وہ زمانہ تنگی اور ناداری کا زمانہ تھا اور آبائی ریاست کا دور ختم ہوکر گردش کے دن آگئے تھے۔ پس جو شخص ایک صحیح نظر اور دل امین رکھتا ہے ۔اس کو چاہئے کہ سوچے۔
اور میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا۔ یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ گیا اور سفر آخرت کا وقت آگیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سمانہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔
پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکاار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا اور عند الضرورت خدمتیں بجا لاتا رہا۔ یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غمخواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیرخواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پاگیا تب ان خصلتوںں میں اس کا قائم مقام میر ابھائی ہوا۔ جس کا نام مرزاغلام قادر تھا اور سرکار