واجب ہے اور اس کی اطاعت ضروری ہے۔ کیونکہ یہ گورنمنٹ مسلمانوں کے خونوں اور مالوں کی حمایت کرتی ہے اور ہر یک ظالم کے حملہ سے ان کو بچاتی ہے اور درحقیقت ہمیں اسی نے ان بیقراریوں اور دل کے لرزوں سے بچایا۔ سو اگر شکر نہ کریں تو ظالم ٹھہریں گے۔ پس شکر ہم پرازروئے دین ودیانت واجب ہے اور جب شخص آدمیوں کا شکر نہیں کرتا۔ اس نے خدا کا شکر بھی نہیں کیا اور خدا انہیں کو دوست رکھتا ہے۔ جو طریق انصاف پر چلتے ہیں۔
اور ہم ان دنوں اور ان زمانوں کو بھول نہیں گئے۔ جو اس گورنمنٹ سے پہلے ہم پر گزرے اور بخدا ہمیں ان وقتوں میں دو منٹ بھی امن نہیں تھا۔ چہ جائیکہ ایک دن یا دو دن ہو اور ہم ڈرتے ڈرتے شام کرتے اور صبح کرتے تھے۔
سو میں نے اس مضمون کی کتابوں کو شائع کیا ہے اور تمام ملکوں اور تمام لوگوں میں ان کو شہرت دی ہے اور ان کتابوںں کو یعنی دور دور کی ولائیتوں میں بھیجا ہے۔ جن میں عرب اور عجم اور دوسرے ملک ہیں۔ تاکہ کج طبیعتیں ان نصیحتوں سے براہ راست آجائیں اور تاکہ وہ طبیعتیں اس گورنمنٹ کا شکر کرنے اور اس کی فرمانبرداری کے لئے صلاحیت پیدا کریں اور مفسدوں کی بلائیں کم ہو جائیں اور تاکہ وہ لوگ جانیں کہ یہ گورنمنٹ ان کی محسن ہے اور محبت سے اس کی اطاعت کریں۔ یہ میرا کام اور یہ میری خدمت ہے اور خدا میری نیت کو جانتا ہے اور وہ سب سے بہتر محاسبہ کرنے والا ہے۔
اور میں نے یہ کام گورنمنٹ کے ڈر سے نہیں کیا اور نہ اس کے کسی انعام کا امیداوار ہوکر کیا ہے۔ بلکہ یہ کام محض اﷲ اور نبیﷺ کے فرمان کے مطابق کیا ہے۔ کیونکہ ہمارے نبی اور ہمارے سردار اور ہمارے مولا نے جو خدا کا پیارا اور اس کا دوست محمد مصطفیٰﷺ ہے۔ ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم ان کی تعریف کریں۔ جن کے ہم نعمت پروردہ ہیں اور ان کا ہم شکر کریں جن سے ہمیں نیکی پہنچی ہو۔ پس اسی وجہ سے میں نے اس گورنمنٹ کا شکر کیا اور جہاں تک بن پڑا اس کی مدد کی اور اس کے احسانوں کو ملک ہند سے بلاد عرب اور روم تک شائع کیا اور لوگوں کو اٹھایا تا اس کی فرمانبرداری کریں اور جس کو شک ہو وہ میری کتاب براہین احمدیہ کی طرف رجوع کرے اور اگر وہ اس کے شک کے دور کرنے کے لئے کافی نہ ہو تو پھر میری کتاب تبلیغ کا مطالعہ کرے۔
اور اگر اس سے بھی مطمئن نہ ہو تو میری کتاب حمامۃ البشریٰ کو پڑھے اور اگر پھر بھی کچھ شک رہ جائے تو پھر میری کتاب شہادۃ القرآن پر غور کرے اور اس پر حرام نہیں ہے جو اس رسالہ کو