براہین کے علاوہ میری گذشتہ عمر پیدائش سے لے کر تاحال تمہارے سامنے ہے۔ میرے قول اور فعل میں کوئی قبحہ اور دھبہ ہے۔ جس سے انسانیت پر آنچ آئے؟ ہرگز نہیں ہے۔ چنانچہ خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اﷲﷺ کے متعلق قرآن نے حضورﷺ کی گذشتہ عمر کو بایں الفاظ پیش کیا ہے۔ ’’فقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ افلا تعقلون‘‘ یعنی غور کرو کہ میں دعوئے نبوت سے پہلے تم لوگوں میں ایک پوری عمر بسر کر چکا ہوں۔ غور کرو میں تم میں کوئی نیا آدمی نہیں جس کے خصائل وحالات کی تمہیں خبر نہ ہو۔ میری گذشتہ زندگی کا ہر لمحہ تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ میرے عادات واخلاق آج سے پہلے چالیس سال تک کے تمہیں معلوم ہیں۔ بجز صداقت، امانت اور عفت کے مجھ میں کبھی کچھ تم نے دیکھا ہے؟ انسان کی عمر میں ابتدائی چالیس برس کا وہ زمانہ ہوتا ہے جس میں انسان کے اندر مختلف خواہشات اور امنگیں ابھرتی ہیں۔ انسان ان کے حصول کی خاطر جھوٹ، فریب، مکر، حیلہ سازی اور دغابازی سے نہیں جھجکتا۔
ابوسفیان کو جب قیصر روم کے دربار میں لایا گیا تو قیصر نے حضورﷺ کے متعلق مختلف کئی قسم کے سوالات کئے۔ منجملہ ان سوالات کے ایک یہ سوال تھا کہ اس مدعی نبوت (یعنی حضورﷺ) نے کبھی جھوٹ بھی بولا ہے؟ تو ابوسفیان باوجود بدترین دشمن ہونے کے، بغیر اس کے کچھ نہ کہہ سکا کہ نہیں محمدؐ نے کبھی جھوٹ نہیں کہا۔ اس کا دامن اس داغ سے بالکل پاک ہے۔ اب ہم مرزاقادیانی کی نبوت، رسالت اور محمدیت کو زیربحث لانے سے پہلے مرزاقادیانی کی گذشتہ زندگی کو مشتے نمونہ از خروار کے طور پر خود مرزاقادیانی کی زبان اور آپ کے قلم سے لکھے ہوئے کارنامے کو پیش کرنے کے بعد فیصلہ لاہوری اور قادیانی حضرات کے انصاف پر چھوڑ دیں گے اور ہر دو جماعت سے مؤدبانہ پوچھیں گے۔ اپنی عمر کے جو شخص پورے گیاراں برس رات دن اسلام اور مسلمانوں کی خونریزی اور کفار کی خوشنودی حاصل کرنے میں گزار دے نبوت ورسالت اور مجددیت کی قباء اس پر کسی صورت بھی فٹ آسکتی ہے؟ پادری عمادالدین نے مرزاقادیانی کے خلاف ایک مضمون لکھا کہ مرزاقادیانی حکومت وقت کے خلاف بغاوت کرنی چاہتا ہے۔ اس کے جواب میں مرزاقادیانی نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عربی زبان میں ایک رسالہ تحت اللفظ اردو ترجمہ لکھ کر شائع کیا ہے۔ رسالہ کا نام (نورالحق حصہ اوّل ص۲۷تا۳۳، خزائن ج۸ ص۳۶تا۴۵) جواب یہ: ’’اور گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں کہ ہم قدیم سے اس کی خدمت کرنے والے اور اس کے ناصح اور خیرخواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم حاضر ہوتے رہے ہیں اور میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں