سلیمان نے جب پرندوں کو طلب کیا تاکہ سب سامانوں کی حالت سے واقفیت حاصل کریں تو افسر محکمہ کو غائب پایا تو فرمایا۔ ہد ہد کہاں ہے؟ اور پرندوں اور جانوروں کے ناموں پر انسانوں کے نام عام طور پر رکھے جاتے ہیں۔ فکس (لومڑ) اور ولف (بھیڑیا) وغیرہ۔ آج مہذب قوموں میں بھی اپنے نام رکھتی ہیں اور ہندوؤں میں طوطا رام اور مسلمانوں میں شیر اور باز بلکہ شیرباز عام نام ہیں۔ عرب میں بھی ایسے نام رکھ لئے جاتے تھے جیسے اسد وغیرہ۔‘‘
(تفسیر بیان القرآن از محمد علی قادیانی ج۳ ص۱۰۲۰)
۷… ’’قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن فقالو انا سمعنا قراٰنا عجبا (الجن:۱)‘‘ {تم کہو کہ مجھ کو حکم آیا کہ کتنے جنوں کے لوگ سن گئے۔ پھر کہنے لگے کہ ہم نے ایک قرآن عجیب سنا ہے۔}
یہاں جن سے مراد خدا کی وہی مخلوق ہے جو عام طور پر نظروں سے مخفی رہتی ہے اور جس کا ثبوت قرآن وحدیث، تواتر اور مشاہدہ سے ہے۔ اس آیت میں مفسرین کے نزدیک اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کریمﷺ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ کئی جن ادھر کو گزرے اور قرآن کی آواز پر فریفتہ ہوکر سچے دل سے ایمان لے آئے۔ پھر اپنی قوم میںجاکر سب ماجرا بیان کیا۔ (تفسیرعثمانی)
لیکن مولوی محمد علی نے لغت عرف، کلام عرب اور تفسیر مشہور کے برخلاف جن سے مراد عیسائی قومیں لی ہیں۔
وہ لکھتے ہیں: ’’جن سے مراد انسان ہی ہیں۔ چونکہ یہ باہر کے لوگ تھے جو اہل عرب کی نظر سے مخفی تھے۔ اس لئے انہیں جن کہاگیا اور یہ جن عیسائی تھے۔‘‘
آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’ممکن ہے یہ سب ذکر بطور پیش گوئی کے ہو اور مطلب یہ ہو کہ عیسائی اقوام جو بوجہ اپنی عظمت کے کبھی جن کی حیثیت حاصل کر لیں گے۔ آخر ان کا ایک حصہ بھی قرآن کریم کی صداقت پر ایمان لائے گا۔‘‘
یہاں ہم انہیں چند نمونوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ ورنہ یہ تفسیر جو تین ضخیم جلدوں میں ہے۔ انہیں نو ادر تفسیر سے بھری ہوئی ہے۔
اس جگہ ایک سلیم الفطرت انسان کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحابہ کرامؓ جو