قرآن مجید کے مخاطب اوّل تھے اور قرآن مجید ان کی زبان میں نازل ہوا تھا اور صحبت نبوی سے انہوں نے قرآن مجید کا صحیح فہم حاصل کیا تھا۔ ان آیات کے یہی معنی سمجھتے تھے۔ کیا وہ بھی ’’اضرب بعصاک الحجر‘‘ سے جماعت کو پہاڑ پر لے جانے کا مفہوم سمجھتے تھے۔ ’’فاضربوہ ببعضہا‘‘ کے بھی معنی ان کے نزدیک بھی یہی تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر فعل قتل کا امر پورا وارد نہ ہونے دو۔ طیر سے مراد وہ مزکی نفوس ہیں جو زمین اور زمینی چیزوں سے بلند ہوکر خدا کی طرف پرواز کرتے ہیں۔ منطق الطیر سے مراد نامہ برکبوتر ہیں اور ’’وادی النمل‘‘ سے مراد کسی قبیلہ کی بستی ہے۔ ’’دابۃ الارض‘‘ سے مراد حضرت سلیمان کا بیٹا رحیعام ہے۔ جس کی نظر صرف زمین تک محدود تھی۔ ’’ہد ہد‘‘ سے مراد حضرت سلیمان کے محکمۂ خبر رسانی کا افسر اعلیٰ ہے۔ سورۂ جن میں جن کے لفظ سے مراد یورپ کی عیسائی قومیں ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کیا تابعین اور ان کے بعد کے اہل زبان اور علماء ومفسرین میں سے کسی نے ان آیات اور الفاظ کے یہ معنی سمجھے؟ اثبات میں تو اس کا جواب دینا مشکل ہے۔ اس لئے کہ متقدمین کا تفسیری ذخیرہ ہمارے سامنے ہے۔ ان میں کہیں اس کا وجود نہیں اور خود اس زمانہ کے اہل عربیت اور ادباء کا ذہن بھی ان معانی کی طرف منتقل نہیں ہوسکتا۔ پھر اگر واقعہ یہ ہے کہ نزول قرآن کے تیرہ سو برس بعد ایک عجمی نژاد کے ذہن میں پہلی مرتبہ ان آیات والفاظ کے یہ معانی آئے ہیں تو قرآن مجید میں جو جابجا اپنے لئے الکتاب المبین (واضح کتاب) عربی مبین (واضح عربی زبان) کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ ان کا کیا مطلب ہے؟ سورۂ شعراء میں ارشاد ہوتا ہے: ’’نزل بہ الروح الامین علیٰ قلبک لتکون من المنذرین بلسان عربی مبین (الشعرائ: ۱۹۳تا۱۹۵)‘‘ {لے کر اترا ہے اس کو فرشتۂ معتبر تیرے دل پر کہ تو ہو ڈرسنا دینے والا کھلی عربی زبان میں۔}
’’آلر۰ تلک آیت الکتاب المبین۰ انا انزلنہ قراٰنا عربیا لعلّکم تعقلون (یوسف:۱تا۲)‘‘ {یہ آیتیں ہیں واضح کتاب کی، ہم نے اس کو اتار ہے۔ قرآن عربی زبان کا، تاکہ تم سمجھ لو۔}
’’ولقد یسرنا القراٰن للذکر فہل من مدکر (القمر:۱۷)‘‘ {ہم نے قرآن کو آسان کر دیا ہے۔ سمجھنے کے لئے، پھر ہے کوئی سوچنے والا۔}