اس میں بھی چونکہ چند غیرمعمولی واقعات اور آیات قدرت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے مولوی محمد علی صاحب نے ’’دابۃ الارض‘‘ اور ’’منسٔاۃ‘‘ کے بالکل الگ معنی بیان کر کے لکھا ہے: ’’ اصل بات یہ ہے کہ حضرت سلیمان کی وفات کے جلد ہی بعد اس سلطنت کی حالت خراب ہوگئی۔ حضرت سلیمان کے بیٹے رحیعام کے تخت نشین ہونے کے تھوڑی دیر بعد یربعام کی انگیخت پر بنی اسرائیل نے کچھ مطالبات پیش کئے۔ اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام کے پرانے مشیروں نے رحیعام کو مشورہ دیا کہ وہ قوم کو تنگ نہ کرے اور ان کے مطالبات کو قبول کر لے۔ مگر اس نے بجائے ان مشیروں کی بات سننے کے اپنے نوجوان ساتھیوں کے کہنے پر بنی اسرائیل کے مطالبات کا سخت جواب دیا اور ان پر سختی کرنے کی ٹھانی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دس قومیں باغی ہوگئیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت برباد ہوگئی اور رحیعام کی حکومت صرف ایک چھوٹی سی شاخ پر رہ گئی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ غیراسرائیلی قومیں بھی آزاد ہوگئیں۔ (دیکھو سلاطین، باب۱۲) بس دابۃ الارض یہی رحیعام، حضرت سلیمان کا بیٹا ہے۔ جس کی نظر صرف زمین تک محدود تھی اور سلیمان کے عصاء کا کھایا جانا اس سلطنت کی بربادی ہے اور جن سے مراد غیرقومیں ہیں۔ جنہوں نے اب تک بنی اسرائیل کی ماتحتی کا جواء اٹھایا تھا۔‘‘ (ج۳ ص۱۵۳۶)
۶… ’’وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الہد ہدام کان من الغائبین (النمل:۲۵)‘‘ {اور خبر لی اڑتے جانوروں کی تو کہا۔ کیا ہے جو میں نہیں دیکھتا۔ ہد ہد کو یا ہے وہ غائب۔} قدیم زمانہ سے اس وقت تک سب نے ہد ہد سے مراد مخصوص پرندہ سمجھا ہے اور سیاق وسباق بھی یہی بتلاتا ہے۔ اس لئے کہ اوپر حضرت سلیمان علیہ السلام کے پرندوں کی زبان جاننے کا ذکر ہے اور پرندوں ہی کا اس موقع پر وہ جائزہ لے رہے ہیں۔ ’’وتفقد الطیر‘‘ لیکن چونکہ اس واقعہ میں ایک غرابت اور خارق عادت بات ہے کہ پرندہ سے کوئی انسان بات چیت کرے اور اس کا محاسبہ کرے اور وہ اپنی کارگزاری پیش کرے۔ اس لئے مولوی محمد علی کے نزدیک ہد ہد سے مراد حضرت سلیمان کے صیغۂ خبر رسانی کا افسر اعلیٰ یا خفیہ پولیس کا انسپکٹر جنرل مراد ہے۔
وہ لکھتے ہیں: ’’ہد ہد کسی شخص کا نام ہے جو اس محکمہ خبر رسانی سے تعلق رکھتا ہے اور جس کی موجودگی جائزہ کے وقت ضروری تھی۔ کیونکہ پرندوں سے خبر رسانی کا ہی کام لیا جاتا تھا۔ تو حضرت