پرواز کر سکیں اور یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ کس طرح نبی کے نفخ سے انسان اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ زمینی خیالات کو ترک کر کے عالم روحانیت میںپرواز کرے۔‘‘ (ج۱ ص۳۲۱)
۴… سورۃ النمل میں آتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے تحدیث نعمت کے طور پر فرمایا: ’’یایہا الناس علمنا منطق الطیر واوتینا من کل شیٔ (النمل:۱۶)‘‘ {اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر ایک چیز دی گئی۔}
چونکہ کسی انسان کا پرندوں کی بولی سمجھنا عام مشاہدات وتجربات کے خلاف ہے۔ اس لئے مولوی محمد علی نے اس سے نامہ بری مراد لی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’سلطنت کے سامانوں میں بالخصوص قدیم زمانہ میں سب سے بڑا کام جو پرندوں سے لیا جاتا تھا وہ نامہ بری کا کام تھا۔ تو مجازاً وہ نامہ جو پرندہ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا ہے۔ منطق الطیر ہی کہلائے گا۔‘‘
اگلی آیت ’’حتیٰ اذا اتوا علی واد النمل قالت نملۃ یایہا النمل ادخلوا مساکنکم‘‘ میں وادی النمل سے مراد مشہور تفسیر اور متبادر معنی کے مطابق چیونٹیوں کا گاؤں نہیں۔ بلکہ ان کے نزدیک یہ ایک عرب قبیلہ بنی نملہ نام کی ایک وادی تھی اور نملۃ سے مراد اسی کا ایک فرد تھا۔ وہ لکھتے ہیں: ’’یہ کوئی قوم تھی جن کو علم ہوا کہ حضرت سلیمان اپنی افواج کے ساتھ آرہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایسا نہ ہو ہم خواہ مخواہ مخالف سمجھ کر مارے جائیں۔‘‘ (ج۳ ص۱۴۰۹)
۵… سورۂ سبا میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہے: ’’فلما قضینا علیہ الموت مادلہم علیٰ موتہ الا دابۃ الارض تأکل منسأتہ (السبائ:۱۴)‘‘ {سو جب ہم نے اس پر (سلیمان علیہ السلام پر) موت کا حکم صادر کیا تو انہیں (جنات) کو اس کی موت کا پتہ کسی چیز نے نہ دیا۔ مگر گھن کے کیڑے نے جو اس کا عصا کھاتا رہا۔}
مفسرین اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: ’’حضرت سلیمان علیہ السلام جنوں کے ہاتھ سے مسجد بیت المقدس کی تجدید کرارہے تھے۔ جب معلوم ہوا کہ میری موت آپہنچی جنوں کو نقشہ بتا کر آپ ایک شیشہ کے مکان میں دربند کر کے عبادت الٰہی میں مشغول ہوگئے۔ اسی حالت میں فرشتہ نے روح قبض کر لی۔ آپ کی نعش مبارک لکڑی کے سہارے کھڑی رہی۔ کسی کو آپ کی وفات کا احساس نہ ہوسکا۔ وفات کے بعد مدت تک جن بدستور تعمیر کرتے رہے۔ جب تعمیر پوری ہوگئی۔ جس عصاء پر ٹیک لگارہے تھے۔ گھن کے کھانے سے گرا۔ تب سب کو وفات کا حال معلوم ہوا۔ اس سے جنات کو خود اپنی غیب دانی کی حقیقت کھل گئی اور ان کے معتقد انسانوں کو بھی پتہ لگ گیا کہ اگر انہیں غیب کی خبر ہوتی تو کیا اس ذلت آمیز تکلیف میں پڑے رہتے۔‘‘ (تفسیر عثمانی ص۵۵۷)