چونکہ اس میں کئی مافوق الفطرۃ اور خارق عادت واقعات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے مولوی محمد علی صاحب نے اس کی بالکل الگ تفسیر بیان کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’قرائن صفائی سے بتاتے ہیں کہ ان الفاظ میں کسی نبی کے قتل کا ذکر ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسا نبی جس کے قتل میں اختلاف ہوا ہو اور کامیابی نہ ہوئی ہو۔ وہ مسیح علیہ السلام ہیں۔ گویا قوم یہود کی بے اعتدالیوں کا نقشہ کھینچا ہے کہ ایک طرف تو گائے تک کو ذبح کرنے میں اس قدر لیت ولعل کرتے ہیں اور دوسری طرف ایک عظیم الشان نبی کو قتل کرنے میں اس قدر دلیری ہے۔ رہا یہ سوال کہ ’’فقلنا اضربوہ ببعضہا‘‘ سے کیا مراد ہے؟ ’’اضربوہ‘‘ میں ضمیر نفس کی طرف جاتی ہے۔ کیونکہ بعض وقت نفس کی ضمیر بلحاظ معنی مذکر آجاتی ہے اور بعضہا کی ضمیر فعل قتل کی طرف جاتی ہے۔ یعنی بعض قتل سے اس کو مار دو، یا فعل قتل پورا اس پر وارد نہ ہونے دو اور یہی سچ ہے کہ حضرت مسیح پر پورا فعل قتل وارد نہیں ہوا۔ صلیب پر آپ صرف تین گھنٹے رہے اور اتنی تھوڑی دیر میں کوئی شخص صلیب کی موت مر نہیں سکتا۔ آپ کے ساتھ جو چور صلیب دئیے گئے تھے۔ ان کی ہڈیاں توڑی گئیں۔ آپ کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں۔ یہی ’’فاضربوہ ببعضہا‘‘ ہے اور ’’کذلک یحیی اﷲ الموتی‘‘ کہہ کر بتلادیا کہ جس کو تم مردہ خیال کر بیٹھے تھے اسے خدا نے یوں زندہ رکھا۔‘‘
(تفسیر بیان القرآن از محمد علی قادیانی ج۱ ص۵۰)
آیات کی یہ تفسیر اس ذہنیت کا بہترین نمونہ ہے۔ ایک معجزہ کے وقوع سے بچنے کے لئے کس طرح تکلف سے کام لیاگیا ہے اور کس طرح مونث کی ضمیر کو مذکر اور مذکر (فعل قتل) کی ضمیر کو مؤنث ثابت کیاگیا ہے اور سیاق وسباق کے بالکل برخلاف ان آیات کو حضرت مسیح سے متعلق کیاگیا ہے۔
۳… قرآن مجید نے حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ قول باربار دہرایا ہے کہ میں بطور معجزہ اور ثبوت نبوت کے تمہارے سامنے مٹی کے جانور بناتا ہوں اور پھر ان کو پھونک مار کر ہوا میں اڑاتا ہوں۔ ’’انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اﷲ (آل عمران)‘‘ اس میں بے جان چیزوں میں روح ڈالنے کے معجزہ سے بچنے کے لئے مولوی محمد علی صاحب نے اس آیت کو تمام تر استعارات پر مشتمل بتایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’برنگ استعارہ یہاں طیر سے مراد ایسے لوگ ہیں جو زمین اور زمینی چیزوں سے اوپر اٹھ کر خدا کی طرف