رسالت سے اس وقت تک کی جاتی رہی۔ یہ ماننا پڑتا ہے کہ بنی اسرائیل کے لئے چٹان سے پانی کے چشمے مافوق الفطرت اور خارق عادت طریقہ پر جاری ہوئے۔ یہ بات چونکہ روزمرہ کے مشاہدہ اور طبعیات وعلم طبقات الارض کے عام قوانین سے الگ ہے۔ اس لئے اس ظاہری معنے کو چھوڑ کر مولوی محمد علی نے ضرب اور عصا کے وہ معنی بیان کئے ہیں جو کلام عرب میں خاص ترکیب اور خاص محاورات میں بطور مجازواستعارہ کے مراد لئے جاتے ہیں۔ یعنی ضرب فی الارض کے معنی زمین میں چلنا ، عصا کے معنی اجتماع وائتلاف اور جماعت اور پھر الفاظ کے ان مجازی معنی کی مدد سے آیت کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اپنی جماعت کے ساتھ پہاڑ پر چلے جاؤ۔ اور اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ اﷲتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کسی پہاڑ پر چلے جانے کی ہدایت فرمائی جہاں ان کو بارہ چشمے مل گئے۔ (تفسیر بیان القرآن از محمد علی قادیانی ج۱ ص۴۴)
یہ سب تکلفات انہوں نے اس لئے گوارا کئے کہ اس معجزہ اور خارق عادت واقعہ کے ماننے اور اس کا ثبوت پیش کرنے سے وہ بچ جائیں اور ان کے قارئین کے ذہن پر ایمان بالغیب اور تصدیق معجزات کا بوجھ نہ پڑے۔
۲… اسی سورۂ کی آیت ہے: ’’واذ قتلتم نفساً فدّٰرٔتم فیہا واﷲ مخرج ماکنتم تکتمون فقلنا اضربوہ ببعضہا کذلک یحیی اﷲ الموتٰی ویریکم اٰیتہ لعلکم تعقلون (البقرہ:۷۳)‘‘ {اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ پھر آپس میں اختلاف کیا اور اﷲ ظاہر کرنے والا تھا۔ جو تم چھپاتے تھے۔ پس ہم نے کہا کہ اس کو اس کے بعض سے مارو۔ اسی طرح اﷲمردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمہیں اپنے نشان دکھاتا ہے تاتم عقل سے کام لو۔}
اس کے مشہور معنی اور تفسیر یہی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک قتل ہوگیا تھا۔ قاتل کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ مقتول کے ورثاء نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کے متعلق دریافت کرنے کی درخواست کی۔ اس سے پہلے ان کو ایک گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا اور انہوں نے بعد از خرابیٔ بسیار اس حکم کی تعمیل کی تھی۔ اﷲتعالیٰ نے حکم الٰہی کی مصلحت اور اس کی تعمیل کا فائدہ بتلانے کے لئے حکم دیا کہ اسی گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم سے مس کرو۔ وہ اپنے قاتل کا نام بتلا دے گا۔ بنی اسرائیل کو احکام کی عظمت اور ان کی تعمیل کی برکت ومنفعت بتلانے کے لئے یہ طریقہ نہایت مناسب وموزوں تھا اور ایک خالی الذہن آدمی آیات کے سیاق وسباق سے یہی معنی سمجھے گا۔ لیکن