طبقہ میں اس کی اشاعت کا شوق ہے۔ لیکن اس کی ذہنی ساخت اور اس کی گزشتہ تعلیم وتربیت غیبی حقائق اور ماورائے عقل، واقعات کو قبول کرنے سے بالکل قاصر ہے۔ اس نے سائنس اور علوم جدیدہ کی تحقیقات یا (صحیح تر الفاظ میں) مشہور نظریات ومسائل کو مسلمات وبدیہیات کے طور پر تسلیم کر لیا ہے اور ان کو کسی چیز کے (خواہ وہ مذہب کی تعلیمات اور صحف سماوی کے مضامین ہوں) ردوقبول کے لئے معیار ومیزان سمجھ لیا ہے۔ اس کا ذہن اور اس کی ثقافت حقیقتاً عالم غیب اور معجزات وخوارق کو تسلیم کرنے سے اباء کرتی ہے۔ لیکن وہ اپنے نسلی یادینی لگاؤ کی وجہ سے قرآن مجید اور اسلام کے نصوص سے بھی دستبردار نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس نے درمیان کی راہ یہ نکالی ہے کہ ان حقائق غیبی اور معجزات ومافوق الفطرۃ واقعات کی تشریح اس طرح کی جائے کہ جدید نظریات ومعلومات سے وہ متصادم نہ ہوں اور ان کے تسلیم کرنے میں ذہن پر غیرضروری بار نہ پڑے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ آیات قرآنی کی تفسیر اور تاویل میں ہر طرح کا تکلف اور ہر طرح کی موشگافی کرنے کے لئے تیار رہتا ہے اور ہرکمزور سے کمزور چیز کا سہارا لینے سے بھی اس کو عذر نہیں۔ وہ اپنی ان تشریحات اور تاویلات میں اصول تفسیر، زبان وادب کے قواعد، عرف واستعمال، قدیم کلام کی سند وحجت، قرآن کے مخاطبین اور اولین اور اہل زبان کے فہم، متقدمین کی تفاسیر، غرض ہر اس چیز سے جو اس راہ میں حارج اور قرآن مجید اور فہم جدید کی تطبیق میں خلل انداز ہو۔ دستبردار ہونے کے لئے تیار ہے۔ سرسید مرحوم کی تفسیر کا ضخیم دفتر اور مولوی محمد علی لاہوری کے تفسیری نوٹس اور حواشی اس طرز تفسیر کا بہترین نمونہ ہیں۔ یہاں پر نہایت اختصار کے ساتھ صرف چند نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔
۱… سورۂ بقرہ میں فرمایا گیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم بنی اسرائیل کے لئے (جو ایک بے آب دشت میں پڑ گئی تھی) پانی مانگا اتو ارشاد ہوا کہ اپنا عصا چٹان پر مارو۔ چنانچہ اس عمل سے قدرت الٰہی سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور بنی اسرائیل کے بارہ قبائل نے آسودہ ہوکر اپنی پیاس بجھائی۔
’’واذ استسقیٰ موسیٰ لقومہ فقلنا اضرب بعصاک الحجر فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا قد علم کل اناس مشربہم (البقرہ:۶۰)‘‘
آیات کی اس تفسیر کی رو سے جو عربی کے الفاظ سے سمجھ میں آتی ہے اور آج تک عہد