کی تکفیر سے پہنچتی ہے۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے کہیں اصطلاحی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں جہاں جہاں نبوت، وحی وکفر وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ وہ محض صوفیانہ اصطلاحات اور مجازات واستعارات ہیں۔ ظاہر ہے کہ معروف ومروج الفاظ اور مشہور دینی اصطلاحات کو تصوف کا رمز اور مجازواستعارہ ثابت کرنے کے بعد ہر مصنف اور ہر داعی کی تقریروتحریر کی ہر طرح تاویل وتوجیہہ ہو سکتی ہے اور پھر کسی چیز کا بھی ثبوت ممکن نہیں۔
مولوی محمد علی، مرزاقادیانی کو چودھویں صدی کا مجدد اعظم اور مصلح اکبر اور اس سے بڑھ کر مسیح موعود مانتے ہیں اور اس نقطہ پر دونوں شاخوں کا اجتماع ہوجاتا ہے۔ ان کی تفسیر میں مرزاقادیانی کے مسیح موعود ہونے کے ارشادات موجود ہیں۔ سورۃ بقرہ کی آیت ’’ورسولا الیٰ بنی اسرائیل‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’محمدﷺ کے بعد جو کافتہ الناس کی طرف مبعوث ہوگئے اور جن کا زمانۂ نبوت قیامت تک ممتد ہے۔ کسی دوسرے رسول یا نبی کا محتاج اپنے آپ کو سمجھنا اس نعمت عظمیٰ کی ناشکرگزاری ہے۔ پس حدیث میں جو ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ہے۔ اس کے معنی صرف یہی ہوسکتے ہیں کہ اس امت میں سے کوئی شخص ابن مریم کے رنگ میں آجائے۔ جس طرح الیاس کے دوبارہ آنے کی پیش گوئی یوں پوری ہوئی کہ حضرت یحییٰ، الیاس کے رنگ میں آگئے۔ حضرت عیسیٰ کو قرآن کریم کی یہ تصریح امت محمدیہ میں آنے سے روکتی ہے۔‘‘
(تفسیر بیان القرآن حصہ اوّل ص۳۱۷)
انہوں نے اپنی تصنیفات میں عام طور پر مرزاقادیانی کے لئے مسیح موعود کا لقب استعمال کیا ہے۔ ہمیں یہاں پر ان کے اس عقیدہ کے بجائے ان کی تفسیر پر ایک ناقدانہ نظر ڈالنی ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ اس سے کس رجحان کا پتہ چلتا ہے اور وہ کس طرح کا دینی ذہن اور فہم پیدا کر سکتی ہے۔
تفسیر بیان القرآن
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد علی لاہوری کے ذہن نے سرسید کے لٹریچر اور ان کی تفسیر قرآن کے اسلوب اور ان کے فکر کو پورے طور پر جذب کر لیا تھا۔ مولوی نورالدین کے درس تفسیر اور صحبت نے اس رجحان اور ذوق کو مزید تقویت اور غذا پہنچائی۔ وہ اس طبقہ اور گروہ کے بہترین نمائندہ ہیں۔ جس کو اسلام کے تعلق اور عصر جدید کے سامنے قرآن پیش کرنے اور جدید تعلیم یافتہ