فطری مناسبت رکھتے ہیں۔ مگر ان کو ان مجاہدات کی (جو مکالمہ اور مخاطبت الٰہیہ کے لئے شرط ہیں) فرصت یا توفیق نہیں۔ وہ عالمگیر مذہب جو ساری انسانیت کی فلاح کے لئے آیا ہے اور سب کو خدا کے دین کی دعوت دیتا ہے۔ معرفت ونجات اور مغفرت ورضا اور وصول الی اﷲ کے لئے ایسی کڑی شرط نہیں لگا سکتا۔ جس کو کروڑوں انسانوں میں سے چند پورا کر سکیں۔
پھر قرآن مجید میں مؤمنین اور فلاح یافتہ انسانوں کی صفات ملاحظہ ہوں۔ سورۃ المؤمنون کا پہلا رکوع پڑھئے: ’’قد افلح المؤمنون الذین ہم فی صلاتہم خشعون‘‘ سورۃ الفرقان کا آخری رکوع پڑھئے۔ ’’وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ہونا‘‘ اور خود پہلی سورت کی پہلی آیت پڑھئے۔
’’آلم۰ ذلک الکتاب لا ریب فیہ ہدی للمتقین الذین یؤمنون بالغیب ویقیمون الصلوٰۃ ومما رزقنہم ینفقون (البقرہ:۱تا۳)‘‘ {اس کتاب میں کچھ شک نہیں۔ راہ بتلاتی ہے ڈرنے والوں کو، جو کہ یقین کرتے ہیں بے دیکھی چیزوں کا اور قائم رکھتے ہیں نماز کو اور جو ہم نے روزی دی ہے ان کو اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔}
اس میں کہیں بھی مکالمۂ الٰہی کو ہدایت وفلاح کی شرط قرار نہیں دیاگیا۔ بلکہ اس کے برعکس ایمان بالغیب کو ہدایت کی پہلی شرط قرار دیاگیا ہے اور ایمان بالغیب کا مفہوم یہی ہے کہ نبی کے اعتماد پر (جس کو اﷲتعالیٰ اجتبائی طور پر مکالمۂ الٰہی کے لئے انتخاب فرماتا ہے) غیبی حقائق پر جو تنہا عقل اور حواس ظاہری کی مدد سے معلوم نہیں کئے جاسکتے۔ تسلیم کیا جائے۔ اگر مرزاقادیانی کا ارشاد تسلیم کر لیا جائے کہ مکالمۂ الٰہی معرفت اور نجات کے لئے شرط ہے تو ایمان بالغیب کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اس پر قرآن مجید کا اصرار سمجھ میں نہیں آتا۔
پھر یہ صحابہ کرامؓ کی زندگی ہمارے سامنے ہے۔ پوچھا جا سکتاہے کہ ان میں سے کتنے مکالمات ومخاطبات الٰہیہ سے سرفراز تھے؟ اور حدیث وتاریخ سے کتنوں کے متعلق ثابت کیا جاسکتا ہے کہ ان کو مکالمہ ومخاطبہ حاصل تھا؟ کوئی شخص جو اس دور کی تاریخ اور اس جماعت کے مزاج وحالات بلکہ انسانی طبائع ونفسیات سے واقف ہے۔ اس کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ ایک لاکھ افراد سے متجاوز اس قدسی جماعت کو مکالمہ ومخاطبۂ خداوندی حاصل تھا اور جب صحابہ کرامؓ کا یہ حال تھا تو بعد کے لوگوں کا کیا ذکر؟