سلسلۂ نبوت کے انکار کی روح
مکالمات ومخاطبات الٰہیہ کی یہ اہمیت اور عمومیت درحقیقت نبوت کے خلاف درپردہ بغاوت اور ایک مخفی سازش ہے۔ مکالمات ومخاطبات کے اس عموم وتسلسل کے بعد عقلاً وعملاً سلسلہ انبیاء علیہم السلام کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ قرآن مجید اور تمام آسانی مذاہب نے انسانوں کی ہدایت اور معرفت الٰہی کے حصول، ذات وصفات اور منشاء خداوندی کی شناخت اور حقائق غیبی کے علم کو سلسلۂ نبوت سے وابستہ اور مربوط کیا ہے۔ قرآن ہدایت یافتہ مؤمنین کی زبان سے کہتا ہے: ’’الحمدﷲ الذی ہدانا لہذا وما کنا لنہتدی لولا ان ہدانا ﷲ لقد جاء ت رسل ربنا بالحق (الاعراف :۴۳)‘‘ {شکر اس اﷲ کا جس نے ہم کو یہاں تک پہنچا دیا اور ہم نہ تھے راہ پانے والے اگر نہ ہدایت کرتا ہم کو اﷲ۔ بے شک لائے رسول ہمارے رب کی سچی بات۔}
دوسری جگہ ذات وصفات کے بارے میں مشرکانہ وجاہلانہ خیالات وعقائد کی تردید کرتے ہوئے ارشاد ہے: ’’سبحان ربک رب العزت عما یعصفون۰ وسلام علی المرسلین۰ والحمد ﷲ رب العلمین (الصفت:۱۸۰تا۱۸۲)‘‘ {پاک ذات ہے تیرے رب کی، وہ پروردگار عزت والا، پاک ہے ان باتوں سے جو بیان کرتے ہیں اور سلام ہے رسولوں پر اور سب خوبی ہے اﷲ کو، جو رب ہے سارے جہان کا۔}
بعثت انبیاء کی حکمت ومصلحت بتلاتے ہوئے فرماتا ہے: ’’لئلا یکون للناس علی اﷲ حجۃ بعد الرسل (النسائ:۱۶۵)‘‘ {تاکہ لوگوں کے لئے اﷲ پر الزام کا موقع نہ رہے۔ رسولوں (کے پہنچنے) کے بعد۔}
مرزاقادیانی کے فلسفۂ تسلسل وبقائے وحی اور مکالمات ومخاطبات الٰہیہ کے عموم ولزوم پر اگر دقت نظر سے غور کیا جائے اور اس کی عملی تحلیل وتجزیہ کیا جائے تو اس میں ختم نبوت کے بجائے سلسلہ نبوت کے انکار کی روح نظر آئے گی اور ہدایت ومعرفت الٰہی بھی مسمریزم اور جدید تحریک استحضار ارواح (SPRITUALISM) وغیرہ کی طرح ایک روحانی تجربہ اور عمل بن کر رہ جائے گی۔
مکالمات کے سرچشمہ کا تعین
پھر ان مکالمات ومخاطبات الٰہی کی تنقید کا کیا معیار ہے اور اس کی کیا ضمانت ہے کہ انسان جو کچھ سن رہا ہے وہ خود اس کے باطن کی آواز یا اس کے ماحول اور تربیت کی صدائے