وہ لکھتے ہیں: ’’ایسا نبی کیا عزت اور کیا مرتبت اور کیا تاثیر اور کیا قوت قدسیہ اپنی ذات میں رکھتا ہے۔ جس کی پیروی کے دعوے کرنے والے صرف اندھے اور نابینا ہوں اور خداتعالیٰ اپنے مکالمات ومخاطبات سے ان کی آنکھیں نہ کھولے۔ یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرتﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہوسکتا ہے جس میں براہ راست خداتعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔ جو کچھ ہیں قصے ہیں اور کوئی اگرچہ اس کی راہ میں اپنی جان بھی فدا کرے۔ اس کی رضا جوئی میں فنا ہو جائے اور ہر ایک چیز پر اس کو اختیار کرے۔ تب بھی وہ اس پر اپنی شناخت کا دروازہ نہیں کھولتا اور مکالمات اور مخاطبات سے اس کو مشرف نہیں کرتا۔میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔ میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۳، خزائن ج۲۱ ص۳۵۴)
مکالمات کو شرط قرار دینے کے نتائج مرزاقادیانی نے مکالمات ومخاطبات الٰہیہ کو معرفت ونجات اور صداقت وحقانیت کی شرط قرار دے کر اس مذہب کو جس کو اﷲتعالیٰ نے سہل اور ہر شخص کے لئے قابل عمل قرار دیا تھا۔ نہایت مشکل اور نہایت محدود بنادیا۔ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:
’’یرید اﷲ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر (البقرہ:۸۵)‘‘ {اﷲتمہارے اوپر آسانی چاہتا ہے۔ دشواری نہیں چاہتا۔}
’’وما جعل علیکم فی الدین من حرج (الحج:۷۸)‘‘ {اور نہیں رکھی تم پر دین میں کچھ مشکل۔}
’’لا یکلف اﷲ نفساً الا وسعہا (البقرہ:۲۸۲)‘‘ {اﷲتکلیف نہیں دیتا کسی کو مگر جس قدر اس کی گنجائش ہے۔}
لیکن اگر معرفت ونجات کے لئے مکالمات ومخاطبات الٰہیہ شرط ہیں تو اس دین سے زیادہ دشوار چیز کوئی نہیں۔ اس لئے کہ بکثرت لوگ اس مکالمہ والہام سے فطرۃً مناسبت نہیں رکھتے اور خواہ وہ کیسے ہی مجاہدات کریں مکالمہ والہام کا دروازہ ان پر نہیں کھلتا۔ بہت سے لوگ اس سے