خطرہ کو مولوی محمد علی لاہوری نے بھی محسوس کیا اور بڑی خوبی اور قوت کے ساتھ اپنے ایک مضمون میں اس کا اظہار کیا ہے۔ لیکن انہوں نے غور نہیں کیا کہ اس خطرہ کا دروازہ مرزاغلام احمد قادیانی نے کھولا ہے اور اسلام کی پوری تاریخ میں وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے نبوت کے اجراء وتسلسل کو ایک دعوت اور تحریک کے طور پر پیش کیا ہے۔ مولوی محمد علی اہل بصیرت کو خطاب کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’خدارا غور کرو کہ اگر یہ عقیدہ میاں صاحب کا درست ہے کہ نبی آتے رہیں گے اور ہزاروں نبی آئیں گے۱؎۔ جیسا کہ انہوں نے بالصراحت، انوار خلافت، میں لکھ دیا ہے تو یہ ہزاروں گروہ ایک دوسرے کو کافر کہنے والے ہوں گے یا نہیں اور اسلامی وحدت کہاں ہوگی؟ یہ بھی مان لو کہ وہ سارے ہی احمدی جماعت میں ہی ہوںگے۔ پھر احمدی جماعت کے کتنے ٹکڑے ہوں گے۔ آخر گذشتہ سنتوں سے تم اتنے ناواقف نہیں ہو کہ کس طرح نبی کے آنے پر ایک گروہ اس کے ساتھ اور ایک خلاف ہوتا ہے۔ وہ خدا جو محمد رسول اﷲﷺ کے ہاتھ پر کل دنیا کی قوموں کو ایک کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے۔ کیا اب وہ مسلمانوں کو اس طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا کہ ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہوں اور آپس میں کوئی تعلقات اخوت اسلامی کے نہ رہ گئے ہوں۔ یاد رکھو! اگر اسلام کو کل ادیان پر غالب کرنے کا وعدہ سچا ہے تو یہ مصیبت کا دن اسلام پر کبھی نہیں آسکتا کہ ہزاروں نبی اپنی اپنی ٹولیاں علیحدہ علیحدہ لیے پھرتے ہوں اور ہزارہا ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں ہوں۔ جن کے پجاری اپنی اپنی جگہ ایمان اور نجات کے ٹھیکہ دار بنے ہوئے ہوں اور دوسرے تمام مسلمانوں کو کافر بے ایمان قرار دے رہے ہوں۔‘‘ (ردتکفیراہل قبلہ ص۵۰،۴۹)
ایک غلط اور خطرناک مفروضہ
مرزاغلام احمد قادیانی کا ایک مفروضہ جس نے اسلامی ذہن کے لئے بے چینی اور اسلامی معاشرہ کے لئے انتشار کا ایک مستقل دروازہ کھول دیا ہے۔ یہ ہے کہ وہ ’’مکالمات ومخاطبات الٰہیہ‘‘ کو مذہب کی صداقت کی شرط اور اتباع اور مجاہدات کا قدرتی نتیجہ تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جس مذہب میں مکالمات ومخاطبات الٰہیہ کا سلسلہ جاری نہ ہو وہ مذہب مردہ اور باطل ہے۔ بلکہ شیطانی مذہب ہے اور جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور جس مذہب کے پیرو زہد ومجاہدہ کے باوجود اس دولت سے سرفراز نہ ہوں وہ گمراہ، محروم اور نابینا ہیں۔
۱؎ میاں صاحب اس عقیدہ کے مصنف یا موجد نہیں ہیں۔ انہوں نے تو صرف مرزاقادیانی کی ترجمانی کی ہے۔