شخصیت کا علم نہیں۔ جس نے ختم نبوت کا انکار اور دین جدید کے ظہور کی جسارت کی ہو۔ اکبر نے بھی اس منظم اور واضح طریقہ پر جدید نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ لیکن مرزاقادیانی کے بعد یہ دروازہ عمومی طور پر کھل گیا۔ پروفیسر الیاس برنی نے ۱۳۵۵ھ تک سات مدعیان نبوت کا حوالہ دیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر زیادہ اہتمام سے ان مدعیان نبوت کی مردم شماری ہو تو صرف پنجاب میں اس سے بہت زیادہ تعداد ثابت ہوگی۔ ان مدعیان نبوت کی کثرت اور خام خیالی پر خود مرزابشیرالدین محمود نے احتجاج فرمایا۔
انہوں نے ایک تقریر میں فرمایا: ’’دیکھو! ہماری جماعت میں ہی کتنے مدعی نبوت کھڑے ہوگئے ہیں۔ ان میں سے سوائے ایک کے سب کے متعلق یہ خیال رکھتا ہوں کہ وہ اپنے نزدیک جھوٹ نہیں بولتے۔ واقعہ میں ابتداء میں انہیں الہام ہوئے اور کوئی تعجب نہیں اب بھی ہوتے ہوں۔ مگر نقص یہ ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے الہاموں کو سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔ ان میں سے بعض سے مجھے ذاتی واقفیت ہے اور میں گواہی دے سکتا ہوں کہ ان میں اخلاص پایا جاتا تھا۔ خشیت اﷲ پائی جاتی تھی۔ آگے خداتعالیٰ ہی جانتا ہے کہ میرا یہ خیال کہاں تک درست ہے۔ مگر ابتداء میں ان کی حالت مخلصانہ تھی۔ ان کے الہاموں کا ایک حصہ خدائی الہاموں کا تھا۔ مگر نقص یہ ہوگیا کہ انہوں نے الہاموں کی حکمت کو نہ سمجھا اور ٹھوکر کھاگئے۔‘‘ (الفضل مورخہ یکم؍جنوری ۱۹۳۵ئ)
تفریق بین المسلمین
ان جدید نبوتوں سے عالم اسلام میں جو زبردست انتشار مسلمانوں میں جو عظیم تفریق اور امت واحدہ کی جو افسوسناک تقسیم ہوگی۔ اس کے تصور سے بھی ایک مسلمان کو وحشت ہوتی ہے۔ لادینیت اور مذہب بیزاری کے اس دور میں خود بخود لوگوں میں ’’انا الحق‘‘ اور ’’انا النبی‘‘ کہنے کا ذوق نہیں رہا۔ لیکن مرزاغلام احمد قادیانی کے لٹریچر کے اثر اور سبک سرقادیانی مبلغین کی تبلیغ سے اگر آج عالم اسلام میں نبوت کے دعوے کا ذوق پیدا ہو جائے اور عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں مختلف اشخاص اپنا اپنا علم نبوت بلند کر دیں اور جو اس علم کے نیچے نہ آئے نبوت کے لازمی نتیجہ کے طور پر ان کی تکفیر شروع کر دیں تو عالم اسلام میں کیسا ذہنی اور دینی انتشار اور تصادم پیدا ہوگا اور کس طرح عالم اسلام مختلف دینی محاذوں میں تقسیم ہوجائے گا اور جو امت رنگ ونسل اور قوم ووطن کی تفریق مٹانے اور ساری نوع انسانی کو ایک دوسرے کا بھائی اور ہمدرد بنانے آئی ہے۔ وہ کس طرح دینی تعصبات اور باہمی تفریق وتکفیر کا شکار ہوکر رہ جائے گی۔ اس