بیعت فسخ کا اعلان
آغاز فتنہ میں جب محمد یونس خان صاحب ملتانی نے خلیفہ صاحب ربوہ کی خلافت سے باکمال انشراح صدر بیعت فسخ کا اعلان کیا تو خلیفہ صاحب نے اپنے خاص ایجنٹ کو صاحب موصوف کے گھر بھیج کر ان کے والدین اور خسر سے مکمل سوشل بائیکاٹ کا اعلان کرا دیا۔ جس پر ملک کے مشہور ومعروف جریدہ نوائے وقت نے مملکت در مملکت کے عنوان سے ادراتی نوٹ لکھا تھا۔
موت کی دھمکی
میں نے بحوالہ اخبار ’’الفضل‘‘ سوشل بائیکاٹ کے متعلق چند ایک مثالیں ہدیہ قارئین کی ہیں۔ جن کی بناء پر ملک کے تمام اخبار اور جرائد نے ادارتی نوٹ لکھے۔ مگر افسوس صد افسوس ان اخبار اور جرائد کی آواز بازگشت ثابت ہوئی۔ کیونکہ ابھی تک گورنمنٹ نے اس ریاست کے خلاف کوئی واضح اور ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ جس سے یہ کھیل ختم ہو سکے۔ خلیفہ صاحب ربوہ صرف سوشل بائیکاٹ کا حربہ ہی اپنی ریاست میں استعمال نہیں کرتے۔ بلکہ ملک کے قانون کو ہاتھ میں لے کر کسی کی جان کو لینے سے دریغ نہیں کرتے۔ چنانچہ ملک اﷲ یار خان بلوچ پر قاتلانہ حملہ اس بات پر بیّن ثبوت ہے کہ جو بھی سوشل بائیکاٹ کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔
خلیفہ صاحب کا یہ دستور ہے کہ وہ اپنے ناقدین کے خلاف اپنے مریدوں کو ابھارتے اور ان کو موت کی دھمکی سے خوفزدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں۔
’’اب زمانہ بدل گیا ہے۔ دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا۔ اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا۔ مگر اب مسیح اس لئے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے۔‘‘ (مورخہ ۶؍اگست ۱۹۳۷ء الفضل)
اس طرح مولانا فخرالدین ملتانی (مالک احمدیہ کتاب گھر قادیان) شیخ عبدالرحمن مصری (ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ) حکیم عبدالعزیز (دواخانہ رفیق زندگی) محمد صادق شبنم بی۔اے پریزیڈنٹ نیشنل لیگ (وکور ومحتسب جماعت احمدیہ) مرزامنیر احمد عبدالرب خان برہم (کلرک نظارت بیت المال) خلیفہ صاحب کے مشتبہ چال چلن سے الگ ہوئے تو انہوں نے ایک مجلس