نہ ٹلیں گی۔ اب کیا یہ پیشین گوئی آپ کی تشریح کے موافق پوری ہوگئی۔ نہیں ہرگز پوری نہیں ہوئی۔ عبداﷲ آتھم اب تک صحیح وسالم موجود ہے اور اس کی بسزائے موت ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔ بیشک ہماری جماعت ذلت اور رسوائی کے ہاویہ میں گر گئی۔ جو خوشی اس وقت عیسائیوں کو ہے وہ مسلمان کو کہاں، لڑکے کی پیشین گوئی میں تفاول کے طور پر ایک لڑکے کا نام بشیر رکھا گیا۔ لیکن وہ مرگیا۔ اس وقت بھی غلطی ہوئی۔ اب اس معرکہ کی پیشین گوئی کے اصلی مفہوم کے نہ سمجھنے نے غضب ڈھایا۔ مجھ کو تو اب اس اسلام پر شبے پڑنے شروع ہو گئے۔ اس زخم کے لئے کوئی مرہم عنایت فرمائیں۔ ورنہ آپ نے مجھے ہلاک کر دیا۔ ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں۔
ناظرین! ہمیں معلوم نہیں اس خط کا جواب حکیم نورالدین نے کیا دیا ہوگا۔ لیکن حکیم صاحب نے کسی اور دوست کو خط میں لکھا تھا کہ میرے نزدیک یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔
(چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۱۳۱) پر مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ: ’’جب ایک بات میں کوئی شخص جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘
(کشتی نوح ص۶، خزائن ج۱۹ ص۶) پر ہے کہ: ’’پیشین گوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدے کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو آتھم مجھ سے پہلے مر گیا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۸۵ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۹۳) پر ہے کہ: ’’اگر کسی کی نسبت یہ پیشین گوئی ہو کہ وہ ۱۵مہینے تک مجذوم ہو جائے گا۔ پس اگر وہ ۱۵کے بجائے ۲۰مہینے میں مجذوم ہوجائے اور اس کی ناک اور تمام اجزاء گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہوگا کہ یہ کہے کہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر چاہئے۔‘‘
ناظرین! عبداﷲ کی موت ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو پیشین گوئی سے قریباً سال بعد واقعہ ہوئی۔ (سراج منیر ص۱۲، خزائن ج۱۲ ص۱۵) پر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ’’کسی انسان کا اپنی پیشین گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص۶۷، خزائن ج۱۱ ص۶۷) پر ہے کہ: ’’خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ تکفیر اور توہین کو چھوڑے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۱۹، خزائن ج۱۱ ص۳۰۳) پر ہے کہ: ’’میں نے یہ اشتہار دے دیا ہے کہ جو شخص اس کے بعد اس سیدھے طریق سے میرے ساتھ مباہلہ نہ کرے اور نہ تکذیب سے باز آئے۔ وہ خدا کی لعنت اور فرشتوں کی لعنت اور تمام صلحا کی لعنت کے نیچے ہے۔‘‘