بسم اﷲ الرحمن الرحیم!
قادیانیوں سے خطاب
’’الحمد ﷲ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ‘‘
قادیانی دوستو! سب سے پہلے تو اس صورت واقعہ سے آگاہ ہو جائیے کہ آپ ہماری ان تقریروں، تحریروں اور گفتگوؤں سے جو ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے قادیانیت کے عنوان پر کرتے ہیں۔ اگر آپ کبھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم آپ کے مخالف ہیں اور آپ کے بارے میں ہمارے جذبات میں تلخی ہے تو آپ ہمیں اس میں معذور خیال کیجئے۔ جب ہم دیانتداری سے یہ سمجھتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ نبوت میں سچے نہیں ہیں اور آپ مسلمانوں کو اس کی دعوت دیتے ہیں۔ یا آپ مسلمانوں میں سے بعض افراد کو اپنے اندر جذب کر کے اپنی جماعت کو منظم ومضبوط بناتے چلے جاتے ہیں اور پھر براہ راست اس امر کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک کو احمدی سٹیٹ بنائیں۔ تو آپ کو اپنے مقاصد میں مخلص ماننے کے باوجود ہمارے اندر حفاظت ذات، حفاظت ملت اور حفاظت مملکت کا جذبہ ابھرنا نہ صرف یہ کہ ایک فطری جذبہ ہے۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ اگر یہ جذبات ہمارے دلوں میں موجزن نہ ہوں تو ہماری اسلامیت ہماری ملی غیرت اور ہمارے جذبہ حب وطن کا دیوالیہ ہو جائے اور ہم بے حمیت وبے غیرت ہوکر رہ جائیں۔ اس لئے یہ جذبات فطری ہیں اور اگر ان کے اظہار میں کچھ شدت محسوس ہو تو آپ اسے گوارا کریں۔ اس لئے کہ ہمارے نزدیک آپ ہمارے قصر ایمانی، ہمارے جسد ملی اور ہمارے محبوب ملک پر حملہ آور کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہم جو کچھ کر رہے ہیں مدافعانہ کر رہے ہیں۔
مگر یہ پہلو آپ پر واضح رہے کہ ہماری یہ مدافعت، صرف اس لئے ہے کہ ہم اس امت کے افراد کو قادیانی ہونے سے بچانا اور اس مملکت کو قادیانی مملکت بنانے کے منصوبوں کو ناکام بنانا، اپنا دینی، ملی اور ملکی فرض سمجھتے ہیں اور یہ جو ہم آپ کو ایمان، اپنے افراد اور اپنی مملکت پر حملہ آور خیال کرتے ہیں تو آپ کی اجتماعی حیثیت کے بارے میں ہم ایسا سمجھتے ہیں۔ وگرنہ جہاں تک آپ کے بحیثیت انسان اور بحیثیت ایک فرد ہونے کا تعلق ہے۔ خدائے علیم وخبیر گواہ ہے کہ میرے دل میں اسی شدت کے ساتھ جس شدت کے ساتھ یہ پہلا جذبہ موجود ہے۔ دوسرا جذبہ یہ بھی موجزن ہے کہ آپ میں سے ایک ایک شخص کو اس غلط فہمی سے نکالا جائے۔ جس میں مبتلا ہونے کے باعث میرے نزدیک آپ اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کر رہے ہیں۔