تذکرہ مجمع البحار |
ہم نوٹ : |
|
عرضِ مؤلف بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ اِنۡ اَوۡلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ اللہتعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے جب ۱۹۹۸ء میں مرشد نا ومولانا شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمداختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی معیت میں رنگون وڈھاکہ کے سفر کی سعادت بخشی جس کی پوری روئیداد’’ سفرنامہ رنگون وڈھاکہ‘‘میں رقم ہے، ایک دن ایک بڑے مجمع کو بیعت کرنے کے بعد حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے بندے سے فرمایا کہ انہیں معمولات وغیرہ بتادو تو بندے نے معمولات کے ساتھ ساتھ عظمتِ شیخ، ضرورتِ شیخ اور تعارفِ شیخ بھی پیش کردیا اس سے حاضرین کو بے حد نفع ہوا، یہاں تک کہ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے خادمِ خاص حضرت میر عشرت جمیل صاحب دامت برکاتہم نے حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ مولانا کےمضمون سے مجھے خود بے حد نفع ہوا ہے اور آپ کے ساتھ محبت میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے بعد اس سفر میں گاہے گاہے اس موضوع پر حضرت میر صاحب دامت برکاتہم اور بندہ گفتگو کرتے رہتے تھے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اس موضوع پر کھل کر بات چیت اسی کے بعد شروع ہوئی اس کے بعد جب پاکستان واپسی ہوئی اور حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی بار خانقاہ کی مسجد اشرف میں بندے کا بیان کرایا اور سفر کی روئیداد پیش کرنے کا حکم فرمایا اور احباب کے اصرار پر اسے کتابی شکل دی گئی تو