تذکرہ مجمع البحار |
ہم نوٹ : |
|
بس آخری بات عرض کرتاہوں کہ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کو علم کی قدرکا اس قدراہتمام تھا کہ کبھی کسی علمی کتاب پر کوئی چیز نہیں رکھتے تھے مثلاً چشمہ وغیرہ، اور لکھنے کے لیے کبھی کسی کتاب کو کاغذ کے نیچے نہیں رکھتے تھے، فرماتے تھے یہ علم کی توہین ہے۔ یہ خودمقصودہے، اس کوکسی شے کے رکھنے یالکھنے کا ذریعہ نہیں بنایاجاسکتا ۔ خدارحمت کنند ایں پاک طینت راحضرتِ والاکی تصنیفات وتالیفات و ترتیبات ملفوظات ۱)آئینۂارشادات(ملفوظات حضرت ہردوئی ؒ)۔ ۲)ارشادات السالکین ۳)خزائنِ شریعت وطریقت۔۴)خزائن معرفت ومحبت۔ ۵)صدائے غیب/نوائے غیب(ملفوظات حضرت محمداحمدصاحب)۔۶)مجالس ابرار(مکمل)۔ ۷) ملفوظات حضرت پھولپوریؒ۔ ۸)مواہبِ ربانیہ(فیوضِ ربانی، الطافِ ربانی،افضالِ ربانی ، انعاماتِ ربانی، عنایاتِ ربانی، عطائے ربانی)سفرنامے ۱) آفتاب نسبت مع اللہ۔۲)ارشاداتِ دردِ دل۔۳)باتیں ان کی یاد رہیں گی۔ ۴)پردیس میں تذکرۂ وطن۔ ۵) سفرنامہ حرمین شریفین۔ ۶)سفرنامہ رنگون و ڈھاکہ۔ ۷)سفرنامہ لاہور۔ ۸)معارفِ ربانی(عنایاتِ ربانی)منظومات ۱) آئینۂ محبت۔۲) فیضان محبت۔تصنیفات وتالیفات وترتیبات ۱)اصلاحِ اخلاق۔۲)ایک منٹ کا مدرسہ۔۳)بدنظری کے چودہ نقصانات۔۴) بدنظری