تذکرہ مجمع البحار |
ہم نوٹ : |
|
شیخِ اوّل کے انتقا ل کے بعد سالکین کے لیے حضرتِ والا کا یہ عمل شیخ کی اہمیت کو ظاہرکرتاہے کہ اپنے دوسرے شیخ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پاکستان سے گاہے گاہے حاضر ہوتے رہے اور ایک بار ہردوئی (انڈیا ) میں شیخ کی خدمت میں پچاس دن تک قیام فرمایا ۔ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ترتیب کے مطابق آپ سے فرمایا کہ آپ مدرسے کے قاری صاحب سے نورانی قاعدہ پڑھیں اور اگر آپ چاہیں تو قاری صاحب آپ کی قیام گاہ پر آ کر بھی پڑھا سکتے ہیں، حضرت شیخ نے عرض کیا کہ نہیں حضرت میں درسگاہ میں جا کر پڑھوں گا۔چناں چہ آپ نے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر نورانی قاعدہ پڑھا تو حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کئی جگہ اس واقعہ کو بیان فرمایا اور مولانا جلال الدین رومی کا یہ شعر پڑھا ؎ ایں چنیں شیخے گدائے کوبکو عشق آمد لا ابالی فاتقوا اتنا بڑا شیخ آج گدا بن کر در بدر پھر رہا ہے، عشق جب آتا ہے تو اسی شان سے آتا ہے۔مجاہدات ِ شاقہ اور ان کا ثمر اپنے شیخ حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ زمانۂ قیام میں حضرتِ والا پر مجاہدات اختیاری کے علاوہ مجاہدات اضطراری بھی آئے جن کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں لیکن حضرت کے چار شعر نقل کرتا ہوں جن میں اضطراری یعنی ایذائے خلق کی طرف اشارہ ہے ؎ بتاؤں کیا کیا سبق دیے ہیں تری محبت کے غم نے مجھ کو ترا ہی ممنون ہے غمِ دل اور آہ و نالہ دل حزیں کا جفائیں سہہ کر دعائیں دینا یہی تھا مجبور دل کا شیوہ زمانہ گزرا اسی طرح سے تمہارے در پر دل حزیں کا