تذکرہ مجمع البحار |
§ہم نوٹ : |
|
حلیہ مبارک اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کو حسنِ باطنی کے ساتھ ساتھ حسنِ ظاہری سے بھی خوب نوازاتھا، آپ رحمۃ اللہ علیہ درازقد ،مضبوط جسم ،سرخ وسفید رنگ،کتابی پُرنور چہرہ،ستواں ناک،مستی عشقِ الٰہی سے معمو رآنکھیں جو اکثر یادِ محبوب میں بہتی رہتی تھیں، یہ ادا وفات سے قبل بھی نہ گئی، وفات سے چندلمحے پہلے بھی حضرت کی آنکھوں سے محبتِ الٰہی میں دوآنسو گالوں پرلڑھک گئے۔ کشادہ پیشانی سعادت کی نشانی،مظہر نور یزدانی، وسیع وعریض سینہ،لمبے بازو،کشادہ ہتھیلی،جب سینے میں فراقِ محبوب کی تڑپ بڑھتی تو گہرا سانس لیتے اس سے سینہ پھول جاتا، ایسے لگتاتھا کہ اگرسانس نہ لیتے توشدتِ فراقِ محبوب سے پھٹ جاتا ۔ اکثر سفیدلباس زیب تن فرماتے تھے ،شلوار نصف ساق تک ہوتی۔ جب سفید لباس اور پانچ کلی ٹوپی پہن کر مجمع میں تشریف لاتے تودیکھنے والا آپ کاسرتاپادیکھتاہی رہ جاتا،محض آپ کوایک نگاہ دیکھنے سے کتنوں کی زندگیوں کارخ بدلا۔چال میں عجزو انکساری کے ساتھ ساتھ استغنا کی شان بھی پائی جاتی ،پاؤں میں سفیدجرابیں اورکھلی جوتی استعمال فرماتے، موسمِ سرما میں عام قمیص پرگرم کپڑے کی بنی ہوئی قمیص پہنتے اس طرح قدیم اللہ والوں کی دوہری قمیص پہننے کی سنت پرعملفرماتے۔ آپ کی قمیص میں تین جیبیں ہوتیں، سامنے کی جیب بائیں جانب ہوتی اس پر فلاپ لگواتے جوبٹن یاچیپی سے بند ہوتی، دائیں بائیں کی جیبوں پر زنجیر لگواتے۔ شوقِ جہادمیں روزانہ لاٹھی چلاتےاوردیگرورزش فرماتے اوراپنی صحت کا خوب خیال رکھتے۔ ہمیشہ شلوارپہنی لیکن بیماری کے تیرہ سالوں میں لنگی استعمال فرمائی۔زمانۂ طفولیت ہی میں آثارِ جذبِ الٰہیہ بچپن ہی سے حضرتِ والا پر آثارِ جذب کا ظہور ہونے لگا۔ حضرتِ والا کےوالد صاحب سرکاری ملازمت کے سلسلے میں سلطان پور میں تھے حضرتِ والا کی بڑی ہمشیرہ صاحبہ جو خود بھی اس وقت بچی تھیں آپ کو گود میں لے کر محلہ کی مسجد کے امام جناب حافظ ابو البرکات