دوسری جگہ اپنے مخالفین کو اس طرح یاد کرتے ہیں: ’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘ (نجم الہدیٰ ص۱۰، خزائن ج۱۴ ص۵۳)
انہوں نے اپنے حریف مقابل مولوی سعد اﷲ صاحب لدھیانوی کو ان الفاظ میں یاد کیا ہے کہ قلم بھی اس کا ترجمہ کرنے سے معذرت کرتا ہے۔ اس لئے عربی دان اصحاب کے لئے اصل اشعار نقل کر دئیے جاتے ہیں۔
ومن اللئام اری رجیلا فاسقاً
غولا لعینا نطفۃ السفہاء
شکس خبیث مفسد ومزور
نحس یسمی السعد فی الجہلاء
اٰذیتنی خبثا فلست بصادق
ان لم تمت بالخزی یا ابن بغاء
(انجام آتھم ص۲۸۲،۲۸۱، خزائن ج۱۱ ص۲۸۲،۲۸۱)
انہوں نے ایک ہی مقام پر اپنے عصر کے اکابر علماء وشیوخ کو جو اسلامی ہندوستان کا جوہر اور عالم اسلام کے چیدہ وبرگزیدہ بزرگ، عارف باﷲ اور جید عالم تھے۔ اپنے ہجو وتشنیع کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی، مولانا عبدالحق حقانی، مفتی عبداﷲ ٹونکی، مولانا احمد علی سہارنپوری، مولانا احمد حسن امروہی اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی جیسے اعاظم رجال ہیں۔ ان کے لئے انہوں نے ذہاب وکلاب، شیطان لعین، شیطان اعمیٰ، غول اغویٰ اور شقی وملعون کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔
اسی طرح اپنے زمانے کے مشہور عالم اور شیخ طریقت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ کی شان میں ایک ہجویہ قصیدہ لکھا ہے۔ جس کے دو شعروں کا ترجمہ انہیں کے قلم سے حسب ذیل ہے: ’’پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت تو ملعونوں کے سبب سے ملعون ہوگئی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔ اس فرومایہ نے کمینہ لوگوں کی طرح گالی کے ساتھ بات کی ہے اور ہر ایک آدمی خصومت کے وقت آزمایا جاتا ہے۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۷۵،۷۶، خزائن ج۱۹ ص۱۸۸)
ان مطاعن اور درشت کلامیوں سے بھی ان کی پرجوش طبیعت کو تسکین نہیں ہوئی۔ وہ بعض موقعوں پر مخالفین پر لعنت کرتے ہوئے لعنت کی تعداد کو کسی ایک ہندسہ میں ظاہر کرنے کے بجائے لفظ لعنت کو علیحدہ علیحدہ لکھتے ہیں۔ ضمیمہ نزول المسیح میں انہوں نے مولانا ثناء اﷲ صاحب