بہت رفیع ہے۔ ان کے غلام بھی ان پستیوں سے بلند ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے دشمنوں اور بدخواہوں کے حق میں اکثر یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے ؎
ہر کہ مارا یار نبود ایزد اورا یار باد
ہر کہ مارا رنج دادہ راحتش بسیار باد
ہر کہ او خارے نہد در راہ ما از دشمنی
ہر گلے کز باغ عمرش بشگفد بے خار باد
خود مرزاقادیانی کو تسلیم ہے کہ پیشواؤں اور ان ہستیوں کے لئے جو امامت اور دینی عظمت کے مرتبہ سے سرفراز ہوں۔ تحمل، ضبط، نفس اور عفوو حلم کی صفت بہت ضرورت ہے۔ ’’ضرورۃ الامام‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں، سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تاکہ ان میں طیش نفس اور مجنوناجوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ ایک نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درست بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہوسکے اور جو امام زماں کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ بات میں منہ سے جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں۔ وہ کسی طرح سے امام زماں نہیں ہوسکتا۔‘‘
(ضرورۃ الامام ص۸، خزائن ج۱۳ ص۴۷۸)
لیکن اس کے بالکل برعکس مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے مخالفین کو (جن میں جلیل القدر علماء اور عظیم المرتبت مشائخ تھے) ان الفاظ سے یاد کیا ہے اور ان کی ان الفاظ میں ہجو کی اور خاک اڑائی ہے کہ بار بار تہذیب کی نگاہیں نیچی اور حیاء کی پیشانی عرق آلودہ ہو جاتی ہے۔ ان مخالفین کے لئے ’’ذریۃ البغایا‘‘ (بدکار عورتوں کی اولاد) کا کلمہ تو مرزاقادیانی کا تکیۂ کلام ہے۔ (التبلیغ ص۴۳۵، خزائن ج۵ ص۵۴۸)
ان کی اس ہجو کے زیادہ تیز اور شوخ نمونے عربی نظم ونثر میں ہیں۔ لیکن چونکہ اصناف ادب میں سے طنزیات وہجویات کا ترجمہ سب سے زیادہ نازک اور مشکل کام ہے۔ اس لئے یہاں چند ہی نمونوں کے ترجمے پیش کئے جاتے ہیں۔
فرماتے ہیں: ’’اگر یہ گالی دیتے ہیں تو میں نے ان کے کپڑے اتار لئے ہیں اور ان کو ایسا مردار بناکر چھوڑ دیا ہے جو پہچانا نہیں جاتا۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۲۸۲)