اناجیل بالاتفاق شہادت دیتی ہیں کہ مسیح کو جب پکڑنے آئے تو آپ کے سب شاگرد بھاگ گئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تواتر قومی اس کی دلیل ہے۔ حالانکہ تواتر کے لئے شرط ہے کہ آخری درجہ اس کا شہادت عینی ہو۔ عام لوگ تواتر اور افواہ میں فرق نہیں کرتے۔ کوئی حواری مسیح کے صلیب پر چڑھانے کی چشم دید شہادت نہیں دیتا۔ (دیکھو انجیل مرقس، باب۴ آیت۵۰، متی باب ۲۶ آیت ۵۶) سب کے سب حواری آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔
مرقس تابعین میں سے ہے۔ متی حواری ہے۔ مگر اس نے یہ کتاب نہیں دیکھی۔ اس واقعہ کا انجیلوں میں سخت اختلاف ہے۔
اس کے بعد مسیح کے یہودا اسکر یوطی کے تیس روپے رشوت لے کر پکڑوانے کا ذکر کیا اس میں بھی اختلاف موجود ہے۔ انجیل برنباس میں لکھا ہے کہ۔ یہودا نے پیسے لے کر حضرت مسیح کو شناخت کرایا۔ لیکن اسی کتاب کے برخلاف یوحنا کی انجیل میں لکھا ہے کہ جب مسیح کو پکڑنے گئے تو خود مسیح نے کہا میں ہوں یہاں نہ حواری کا ذکر ہے۔ نہ اور کچھ۔ اس کے بعد مولانا صاحب نے انجیلوں میں بے شمار اختلاف دکھاتے ہوئے کہا۔ کہ جب ہر ایک انجیل میں اس قدر تناقض موجود ہو کہ ایک روایت دوسری روایت کے منافی ہو تو اہل علم کے نزدیک کیونکر قابل قبول ہوسکتی ہے۔
اب قرآن کریم کو لیجئے کہ یہود کا عیسیٰ علیہ السلام تک ہاتھ بھی نہیں پہنچا۔ ’’فبما نقضہم میثاقہم‘‘ یہ ہیں ان پر لعنت کے اسباب۔
ان میں بعض یہود کے اقوال ہیں۔ بعض افعال، عہد توڑنا، آیات سے انکار کرنا۔ بہتان لگانا۔ عمل سے عقیدہ سے خدا وند کریم نے مجرد قول کو لعنت قرار دیا۔ جو انہوں نے کہا ’’انا قتلنا المسیح‘‘ اور اس کو زیادہ واضح کرنے کے لئے فرمایا کہ: ’’وما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ کہ فعل قتل اور صلیب دونوں کی نفی کر دی۔ قرآن کریم کی یہ ترتیب اور بندش الفاظ بلافائدہ نہیں۔
صرف قتلوہ پر بس نہیں کہا۔ مگر اﷲ کو علم تھا کہ ۱۳سوسال کے بعد کوئی شخص ایسا پیدا ہوگا جو یہ کہے گا کہ قتل نہیں ہوئے صلیب دئیے گئے۔ لہٰذا اس کی بھی اس میں تردید کر دی۔ ہاں تو پھر وہ کون تھا؟ جب کہ عیسیٰ مقتول ومصلوب نہیں ہوئے۔ وہ لکن شبہ لہم میں مذکور ہے جسے عیسیٰ جیسا بنایا گیا۔
عیسائی مذہب کو چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مدد ملتی ہے اور وہ اس کو کفارہ بیان