…
’’اس وقت ۱۹۰۷ء میں میری عمر اٹھاسٹھ سال کی ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۰۱، خزائن ج۲۲ ص۲۰۹ حاشیہ)
یہی حضرت جو ایسا صاف جھوٹ بولتا ہے۔ زندگی بھر اپنے آپ کو صادق ثابت کرنے کے لئے کئی کروٹیں بدلتا رہا۔ لیکن دراصل اپنے آپ کو پاگل یا منافق کا خطاب دے گیا۔ انہیں کا ایک قول سنئے۔ فرماتے ہیں: ’’ایک دل سے دو باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق پر انسان پاگل کہلاتا ہے۔ یا منافق۔‘‘ (ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)
اب بتائیے کہ ان الہامی اقوال کے پردے میں سفید جھوٹ بکنے والا یہ شخص کاذب ہے یا صادق؟ پاگل ہے یا منافق؟
احقر: فدا حسین شاہ
اعجاز فارمیسی بھانہ ماڑی پشاور
مرزاقادیانی کا خدائی کا دعویٰ
’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اﷲ ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں اور نہ میرا ارادہ باقی رہا اور نہ خطرہ۔ اسی حال میں میں نے کہا کہ ہم ایک نیا نظام، نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ پس میں نے آسمان اور زمین اجمالی شکل میں بنائے۔ جن میں کوئی تفریق وترتیب نہ تھی اور میں نے ان میں جدائی کر دی اور ترتیب دی اور میں اپنے آپ کو اس وقت ایسا پاتا تھا کہ میں ایسا کرنے پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا: ’’انا زینا السماء الدنیا بمصابیح‘‘ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پس میں نے آدم کو بنایا اور ہم نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا اور اس طرح میں خالق ہوگیا۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴، ۵۶۵، خزائن ج۵ ص ایضاً)
’’واعطیت صفۃ الافناء والاحیاء مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔‘‘ (خطبہ الہامیہ ص۲۲، خزائن ج۱۶ ص۵۵،۵۶)
’’انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون‘‘ اے مرزا تیرا ہی حکم ہے۔ جب تو کسی شئے کا ارادہ کرے تو اسے کہہ دیتا ہے ہو جا۔ پس وہ ہو جاتی ہے۔ ’’نعوذ باﷲ من ہذہ الخرافات‘‘ اب فیصلہ کیجئے! مرزاقادیانی مجدد تھے؟ نبی تھے؟ یا بقول ان کے خالق کائنات تھے؟ وباﷲ توفیق! (حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸)