تذکرہ مجمع البحار |
ہم نوٹ : |
|
ترجیح دی جاتی۔ علماء کی بات اور مشورے کو بہت اہمیت دیتے بلکہ اپنے کسی الہامی مضمون پر علماء سے تصدیق طلب فرماتے۔ ایک مرتبہ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے شاہ بلخ حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ بیان فرمایا جس میں ان کی حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ملاقات کاتذکرہ تھا تو بعدمیں حجرے شریف میں بندہ سے پوچھا کہ جبرئیل علیہ السلام کی ملاقات غیرپیغمبرسے شرعاً ثابت ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی!بالکل ثابت ہے۔ چناں چہ سورۂ مریم میں مریم علیہاالسلام سے ان کی ملاقات کاتفصیلی تذکرہ موجودہے، تو بہت خوش ہوئے، اور فرمایا:جہاں یہ واقعہ تحریر کرو وہاں یہ بات بھی ذکر کردینا۔ فرمایاکرتے تھے کہ عشقِ الٰہی پیٹرول کے مانند ہے اور علمِ دین روشنی کے مانند ہے اور موٹرکے لیے دونوں کی ضرورت ہے لہٰذا عشق اورعلم ہوں گے تودربارِالٰہی تک پہنچ جائیں گے۔ایک بار بندہ نے عرض کیا کہ میں کچھ تحریر کرکے شایع کرناچاہتاہوں توفرمایا اپنی تحریر کو تین علماء سے پڑھوانا اگروہ اعتماد کااظہارکریں توشایع کرنا۔ بندہ نے اس کی پابندی کی، پھر بعدمیں ایک بار فرمایا تمہاری علمی استعداد پر مجھے اعتماد ہے لہٰذا خوداپنی تحریر کو تین بار پڑھ لیاکرو یہ تین علماء کے پڑھنے کے مترادف ہوگی ۔ اس لیے حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ اہلِ علم کوتلقین فرمایاکرتے تھے کہ علمی رسوخ بھی حاصل کرو اور میدانِ روحانیت میں بھی ثابت قدم رہو توپھر تمہاری خوشبو چار دانگ عالم میں پھیلے گی،اور اپنے شیخ حضرت شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کایہ ملفوظ نقل فرمایاکرتے تھے کہ عالم کچاکباب ہے اگرکوئی ایسے ہی کھائے گا تواس کومتلی ہوگی اورقے کرے گا اوراگر کسی اللہ والے کی کڑاہی میں تلاجائے گا تو اس کی خوشبو ہرسوپھیلے گی پھر ہندوکافربھی کہے گا ؎ بوئے کباب مارا مسلمان کرد حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اشعارمیں بھی اس کی تلقین فرمائی ؎ درد عشق حق بھی تم حاصل کرو لاکھ تم عالم ہوئے فاضل ہوئے یک زمانہ صحبتِ با اولیاء جس نے پائی بس وہی کامل ہوئے