ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
جناب محمد ابراہیم فانی صاحب انتقال فرما گئے ہیں۔ خبر سن کر دارالعلوم کی وسیع و عریض مسجد میں ہزاروں طلباء کی آہوں اور سسکیوں سے ساری فضانمناک ہوگئی۔گیارہ بجے دارالعلوم میں ہزاروں علماء ،طلبائ، فضلائ، سیاسی زعماکاایک جم غفیرجمع ہوگیا تھا۔پرانے دارالحدیث میں آپ کی لاش مبارک زیارت کے لئے رکھی ہوئی تھی۔ اور ہر کوئی اپنے محبوب استاد کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے دیوانہ وار آرہا تھا۔ نماز جنازہ حضرت والد مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہ کے سفر عمرہ کی بناء پر نائب مہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا انوار الحق صاحب مدظلہ نے پڑھایا ۔جنازہ کے بعد ایمبولینس میں آپ کی میت رکھی گئی۔اور یوں اُس دارالعلوم سے آپ کی جدائی کا سفر شروع ہوگیا جس درودیوار میں آپ نے تقریباً پینتالیس برس زندگی کے بِتائے۔ گوکہ آپ کا تعلق زروبی ضلع صوابی سے تھا لیکن اکوڑہ خٹک اور خصوصاً دارالعلوم حقانیہ سے آپ کو اس قدر عشق ومحبت تھی کہ سالانہ چھٹیوں میں بھی کچھ دن گزار کر فوراً واپس اکوڑہ چلے آتے۔بہرحال ایمبولینس کے ساتھ ہزاروں طلبا اور آپ کے عشاق آخر تک دوڑتے رہے، اورانہیں خدا حافظ کہتے رہے۔
؎ دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے وہ جارہا ہے کوئی شب غم گزار کے
اور ع آں قدح بشکست و آں ساقی نہ ماند شام ۴ بجے آپ کے گائوں زروبی میں دوسرا جنازہ تیار تھا۔ اس میں بھی علاقہ بھر کے ہزاروں افراد اور علماء ومشائخ نے شرکت کی۔ آپ کے دیرینہ رفیق خاص مولانا فضل علی حقانی (سابق وزیرتعلیم کے پی کے) نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ برادرم مولانا حامد الحق حقانی صاحب‘ مولانا یوسف شاہ صاحب‘ مولانا ذاکر حسن نعمانی صاحب و دیگر علماء مشائخ نے اس موقع پر تعزیتی تقاریر کیں اوریوں شام کے وقت علم و فضل اور شعر وادب کے آفتاب کو آہ وسسکیوں اور کلمہ طیبہ و درود شریف کے زمزموں، قرآنی آیات کی تلاوت کیساتھ دفن کردیا گیا۔
الغرض شاندار خدمات اور کامیابیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اب ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا۔ لیکن ہمیں خداوند رحمن و رحیم سے قوی امید ہے کہ ان شاء اللہ برزخی زندگی میں بھی اس عاشق ِ رسولؐ اور علم و فضل اور اسلام کے محب صادق کی نہ ختم ہونے والی اَبدی کامیابیوں اور کامرانیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہوگا اور اس اُجڑی اور فانی دنیا کا یہ بلبل ِ ہزار داستاں وہاں کے بہشتی گلستانوں میں سرورِ کائناتؐ کی مدح سرائی اور نعت گوئی میں مصروف ہوگا۔ اے شاعر اسلام! اور خلدِبریں کے مسافر، مردم خیز سرزمین اکوڑہ و زروبی تجھے سلام کہتی ہے ۔ خوشحال خان خٹک کی وادی اکوڑہ اور جامعہ حقانیہ کی تاریخ ہمیشہ تجھ پر ناز کرے گی۔
؎ جان کر منجملہء خاصانِ میخانہ مجھے مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے
؎ اب کاوش محروم تجھے ڈھونڈ رہی ہے اک تو ہی تو سرمایہ خونیں جگراں تھا
؎ گل ہوئی شمع ِشبستاں چاند تارے سو گئے موت کے پہلو میں شام غم کے مارے سوگئے
جن کے دم سے بزم ساغرتھی حریف کہکشاں اے شب ہجراں کہاں وہ ماہ پارے سوگئے