ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
غزل مفکر ِاسلام حضرت علامہ اقبال ؒ استاد محترم حضرت مولانا محمد ابراہیم فانی ؒ کے شاعری میں امام و آئیڈیل تھے۔حضرت العلامہ کی غزل استادِ محترم اور مجھے بے حد پسند تھی۔ کبھی کبھی میری فرمائش پر استاد ِمحترم یہ غزل سناتے اور آخر میں شدت ِ درد کے باعث رونے پر مجبور ہوتے۔ آج وہی غزل اُن کے انتقال کی مناسبت سے آپ کی یاد میں اِن کی نذر کررہا ہوں۔………(راشد ) خیر تو ساقی سہی لیکن پلائے گا کسے؟ اب نہ وہ میکش رہے باقی نہ میخانے رہے رو رہی آج اک ٹوٹی ہوئی مینا اسے کل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے آج ہیں خاموش وہ دشت جنوں پرورجہاں! رقص میں لیلا رہی لیلا کے دیوانے رہے تھا جنہیں ذ و قِ تما شا و ہ تو ر خصت ہو گئے لے کے اب تو وعدئہ دیدار عام آیا تو کیا انجمن سے وہ پرانے شعلہ آشام اٹھ گئے ساقیا! محفل میں تو آتش بجام آیا تو کیا آہ! جب گلشن کی جمعیت پریشاں ہو چکی پھول کو بادِ بہاری کا پیام آیا تو کیا آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا بجھ گیا وہ شعلہ جومقصود ہر پروانہ تھا اب کوئی سودائی سوزِ تمام آیا تو کیا