ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
جناب حمد اللہ یوسفزئی * تخلیق کار‘ ادیب و شاعر 26 فروری کو حضرت مولانا محمد ابراہیم فانی اس فانی دنیا سے رحلت کرگئے بلاشبہ آپ عصر حاضر کے ایک جید عالم ، مستند مدرس، مورخ ، سوانح نگار، مرثیہ نگاراور ایک کہنہ مشق شاعر او رادیب تھے اس پر مستزاد آپ ایک جی دار ، مخلص ، مرنجان مرنج، محفل آراء اور درددل رکھنے والے انسان تھے ۔ آپ کے والد صاحب مولانا عبدالحلیم ؒ اپنے وقت کے مشہور ومعروف عالم اور صوفی بزرگ تھے دارالعلوم حقانیہ میں کئی سال تک صدر مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں‘ آپ کے والد آپ کو لڑکپن میں دارالعلوم حقانیہ لے آئے ۔ اور آپ یہی کے ہوکر رہے ۔ یہاں مروجہ علوم حاصل کئے اور یہاں سے مدرس کی حیثیت سے اپنی علمی زندگی کا آغاز کیا ، تین عشروں سے زیادہ عرصے تک آپ درس وتدریس سے منسلک رہے ۔ آپ نے ایک مدرس کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں انتہائی احسن طریقے سے نبھالیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے تلامذہ آپ سے نسبت تلمذ پرفخر محسوس کرتے ہیں ۔ تصنیف وتالیف: بحیثیت مصنف ، مؤلف، اور مضمون نگار یقینا آپ نے اس خطے میں صدیوں سے رقم وتحریر میں موجود کمی کو پوری کرنے میں اپنا مقدوربھر حصہ ڈالا ۔ آپ کئی کتابوں کے مصنف اور مؤلف تھے ۔ آپ جس موضوع پر قلم اٹھاتے اس کا پورا پورا حق اداکرتے ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے تصنیف وتالیف کے شعبے میں اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازاتھا ۔ آپ جب کسی موضوع پر قلم اٹھاتے ۔ توایسا محسوس ہوتاکہ گویا الفاظ آپ کے مطیع ہیں خودبخود آپ کی جھولی میں آگررہے ہیں اورآپ ان الفاظ کو اپنی تحریرمیں موتیوں کی طرح جڑ رہے ہیں آپ کی علمی تصانیف میں دروس الکافیہ، العیون الصافیہ اور افادات حلیم شامل ہیں ۔ سوانح نگاری میں حیات صدر المدرسین ، حیات شیخ القرآن قابل ذکر ہیں ، اردو شاعری میں نالۂ زار، داغہائے فراق اور پشتو شاعری میں ’’ازغی دتمنا ، ویرژن تصورات ، بے شانہ غم ، شاھین د تخیل ، بیا دردونہ پہ خندا دی، دنیا دَ احساساتو، سو گیلے مے زڑگے غواڑی‘‘ شامل ہیں ۔ شاعری : آپ ایک کہنہ مشق شاعر تھے چونکہ آپ ایک حساس اور درددل رکھنے والے انسان تھے اسلئے _____________________ * شاہ منصور‘ صوابی