ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
مولانا حافظ عرفان الحق اظہار حقانی * عظیم علمی ادبی شخصیت مولانا ابراہیم فانی کی رحلت ہر انسان کو اس دنیا سے جلد یا بدیر حکم ربانی کے تحت کوچ کرنا ہے تاہم یہ امر مبنی بر مشاہدہ ہے کہ بعض لوگوں کی رحلت کا غم ایک خاندان تک محدود ہوتا ہے جب کہ بعض بااثر شخصیات کا انتقال ایک گائوں اور علاقے میں کہرام مچا دیتی ہے اسی طرح کچھ بڑے لوگوں کا دنیا سے چلے جانا پورے ملک کو غم سے نڈھال کر کے رکھ دیتی ہے علماء کرام جو کہ انبیاء کرام کے ورثاء کے نام سے پہچانے جاتے ہیں ان کی رحلت پورے کائنات کو سوگ وار کرکے رکھ دیتی ہے موت العالمِ موت العالَم ،افسوس کہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے جید استاذحدیث حضرت مولانا ابراہیم فانی ۲۵اور ۲۶فروری ۲۰۱۴ء کی درمیانی شب رات کے تین بجے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ’’اناللہ وانا الیہ راجعون ‘‘دارالعلوم حقانیہ اور اسکے وابستگان کے لئے یہ ایک عظیم سانحہ ہے مرحوم کا قلم اور کتاب سے ساری زندگی مضبوط تعلق رہا دارالعلوم حقانیہ کے ساتھ وفاداری کی جو تاریخ آپ نے رقم کی وہ دنیا میں بہت کم دیکھنے میں آتی ہے ساری عمر دارالعلوم کے ایک دو چھوٹے کمروں پر مشتمل کوارٹر میں گزاری۔ فقر و فاقہ اور قناعت کی زندگی اختیار کرنے والے معروف شاعر مولانا ابراہیم جس نے فانی کا تخلص رکھا نے دنیا کو اپنی شاعری میں یہ پیغام دیا کہ جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے فانی صاحب گزشتہ دو ماہ سے شدید علیل تھے اور اسی بنا ء پر پشاورکڈنی سنٹر میں زیر علاج تھے مرض وفات میں بھی آپ نے قلم وکتاب کے ساتھ رشتہ قائم رکھا وفات سے ایک ہفتہ قبل بیرون ملک ایک عالمی کانفرنس میں شرکت سے واپسی پر احقر اپنے والد مولانا اظہار الحق صاحب مدظلہ اور برادرم مولانا لقمان الحق صاحب کے ہمراہ حاضر ہوا تو اس مجلسِ عیادت کو بھی انہوں نے علمی ،ادبی مجلس بنا کر رکھ دیا ،گردے فیل ہوجانے کی وجہ سے ان کا رنگ بالکل متغیر ہو چکا تھا بولنے کی سکت مشکل ہو گئی تھی لیکن اس کے باوجود وہ گھنٹہ بھر تک دارالعلوم حقانیہ سے وابستہ اپنی یادیں دہراتے رہے اس موقع پر فرمایا کہ میں نے اپنا تخلص فانی اس لیے رکھا تا کہ ہر وقت مجھے اپنی فنا پر نظر اور فکر رہے تاہم اس بیماری کے دوران مجھے اندازہ ہواکہ دارالعلوم حقانیہ کی وابستگی اور رشتے نے مجھے آفاقی بنا دیا ہے پوری دنیا کے مختلف براعظموں سے لوگ میری _______________________ *استاذ جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک