ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
مولانامفتی ظہور اللہ حقانی گل رفت از گلستانِ حقانیہ داغ ِفرقت سے قلوبِ مجروحہ کے لئے اپنے محبوب استاد شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ابراہیم فانی صاحب ’’نوراللہ مرقدہ‘‘ کا ذکرِ جمیل مرہمِ شافی سے زیادہ موجبِ تسکین ہوتا ہے ؎ فدا ہوں آپ کی کس کس ادا پر ادائیں لاکھ اور بے تاب دل ایک استادمحترم حضر ت فانی صاحب کا ہم کو یتیم چھوڑتے ہوئے چند روز ہوگئے ہیں، مگر اس صدمۂ جانکاہ کی ٹیسیں دل ودماغ میںا ب تک محسوس ہوتی رہتی ہیں، اور معلوم نہیں کہ یہ کیفیت کب تک برقرار رہے گی ؟ بلکہ اب تک تو سارا گلستانِ حقانیہ’’ کومے ‘‘کی حالت میں ہے ۔ استاد محترم کی اچانک رحلت کی وجہ سے میری دل ودماغ کی دنیا بدل گئی ، زبان مقفل اور ذہن مفلوج سا ہوگیا ؎ کوئی مزا مزا نہیں ، کوئی خوشی خوشی نہیں تیرے بغیر زندگی موت ہے زندگی نہیں چنانچہ ابھی تک عقل اورطبیعت کی کشمکش جاری ہے، اور استاد محترم کی رحلت پر حواس کی عینی شہادت کے باوجود طبیعت آپ کے لئے انتقال اور وفات جیسے الفاظ سے نامانوس اور متوحش رہی۔ رہ رہ کر یہی خیال آتاہے کہ آپ ہم میں موجود ہیں ،لیکن زندگی میں پہلی بار یہ احساس ہوگیا کہ سرسے سایۂ استاد کے اٹھ جانے کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ یقینا کچھ ایسا ہی احساس مجھ جیسے ہزاروں بادۂ خوارانِ مے کدہ ٔ فانیؔ کو ہوا ہوگا ؎ یہ پیارا ، مہرباں ، نگہباں او رمشفق استاد ہم سے ہمیشہ کے لئے روپوش ہوگیا ، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہماری اس دنیا سے نہیں گئے ، کہیں سفر پر گئے ہیں اور ابھی آنے کو ہے۔مگر ایسا لگتا ہے کہ موت بھی اپنا شکار منتخب کرنے میں دقّتِ نظر سے کام لیتی ہے، اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہا کرتی ہے۔ چنانچہ اکثر لاخیرے ، دوشِ ہستی کے لئے بارگراں اور لوحِ جھان پر ’’حرف مکرر‘‘ قسم کے لوگ ، بے تکان عرصہ دراز تک جئے چلے جاتے ہیں ،جب کہ’’ مردِ خلیق‘‘ و’’گرہ کشا‘‘ اور ’’کارساز‘‘ بہت جلد رخت سفر باندھ لیتا ہے ۔ __________________________ *بن مولانامفتی سیف اللہ حقانی