ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
مولانا عبدالقیوم حقانی* آسمانِ علم وادب کے روشن آفتاب مولانا حافظ محمد ابراہیم فانی کوئی نالاں ‘ کوئی گریاں ‘ کوئی بسمل ہو گیا ان کے اٹھتے ہی دگرگوں رنگِ محفل ہو گیا بالآخر آسمان علم وادب کا روشن آفتاب علم وادب کی بھر پور ضیاپاشیاں کر کے عروج وکمال کے بعد بالآخر غروب ہو گیا ۔ جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے فاضل ومدرس‘ صدر المدرسین حضرت مولانا عبدالحلیم زروبویؒ کے صاحبزادے برادر محترم حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم فانی ایک ماہ کی علالت کے بعد… انتقال کر گئے ، فانا للّٰہ وانا الیہ راجعون ،وہ اپنے اوصاف وکمالات میںعلمائِ سلف کی یادگار ‘ علوم کی جامعیت ‘ ذہانت وذکاوت‘ دین وتقویٰ ‘ علم وادب ‘ درس وتدریس اور تواضع ومسکنت میں اس دور میںیگانہ تھے علم وادب ‘ شعروسخن میں ان کی نگاہ نہایت وسیع اور اس حوالے سے ان کے قلم وزبان کی روانی یکساں تھی اپنی ذہانت وطباعی سے فوری شعر ‘ حکایات ‘ واقعات اور لطائف ونکات پیدا کرتے تھے معلوم ہوتا کہ شعر وادب ان کے تابع ہے ان کی ذہانت کتابوں کے انبار سے بے نیاز تھی ان کا نکتہ آفریں دماغ اور معراج قلم جدھر رخ کرتا شعر وادب کے دریا بہا دیتا تھا جامعہ حقانیہ سے فارغ ہوتے ہی یہیں تقرر ہوا اور بقول شیخ الحدیث مولانا انوارالحق کے تادم زیست اپنے والد مرحوم کی طرح جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے ایک چھوٹے سے کوارٹر میں فروغِ علم ‘ درس وتدریس میں مشغول رہ کر بالآخر اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی … ؎ شناورانِ محبت تو سینکڑوں ہیں مگر جو ڈوب جائے وہ پکا ہے آشنائی کا فانی صاحبؒ نے طالبعلمی کے زینے طئے کرنے کے بعد اپنی مادرِ علمی جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں تدریس شروع کی تو اپنی قابلیت‘ لیاقت اور استعداد ومحنت کی بنیاد پر دورۂ حدیث تک جا پہنچے اور حقانیہ میں استاذِ حدیث _______________________ * معروف ادیب ‘ دانشور‘مصنف‘مہتمم جامعہ ابوہریرہ و مدیر ماہنامہ’’ القاسم‘‘