ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
جناب پروفیسر اظہار الحق * ہے یہ شامِ زندگی صبح ِ دوام زندگی ! مارچ ۱۹۷۷ء میں میٹرک کے امتحان سے فراغت کے فوراً بعد حضرت والد مرحوم نے دینی تعلیم کا باقاعدہ سلسلہ شروع کرنے کے لئے اکوڑہ خٹک جانے کا مشورہ دیا۔ان کے مشورے کو حکم سمجھتے ہوئے دوسرے دن ان کے ساتھ چل کر ابتدائی کتب کی بسم اللہ ہوئی ۔ اوریوں ۸ سال کے درس نظامی کی وادی میں پہلا قدم رکھا۔ رفتہ رفتہ طلبہ اوراساتذہ جامعہ اسلامیہ ‘ جامعہ حقانیہ سے شناسائی بڑھتی گئی ۔طلبہ تو میرے ہم عمر اور اوراکثر میرے ہم سبق تھے۔ اور دونوں جامعات کے اساتذہ کرام سے تعلق تو وضاحت کا محتاج نہیں۔ مگر ایک ابراہیم فانی مرحوم تھے جو نہ تو میرے ہم سبق اور ہم عمر تھے اور نہ میرے اساتذہ کرام کی صف میں شامل تھے۔مگر فارغ اوقات کا زیادہ حصہ میں ان کے ساتھ گزار کر ان کی محفل سے محظوظ ہوتاتھا۔ اورپھر یہ تعلق ان کے سفر آخرت تک جاری رہا مجھے وہ دن بھی اچھی طرح یاد ہے ‘ جب فانی صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تھی اوراب وہ دن بھی دیکھنا پڑا جب وہ سفر آخرت پہ جارہے تھے ۔ پستہ قد‘ سرخ گندمی رنگ‘ چہرے پہ ایک دائمی مسکراہٹ ‘ شعروادب کا دلدادہ ‘ مہمان نواز ‘ خاکسار‘ علم و ادب سے وابستگی ‘ ذہین و فطین اور خود دار ادیب وعالم کے طورپر جانے پہچانے جاتے تھے۔ میری ان کے ساتھ رفاقت کی دو تین خاص وجوہات تھیں۔ ایک یہ کہ میرے والد مرحوم شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل الہٰی ایک عرصے تک اکوڑہ خٹک کے دونوں جامعات (جامعہ اسلامیہ اور جامعہ حقانیہ) میں درس و تدریس کے منصب پر فائز رہے۔ اورفانی صاحب کے والد مرحوم حضرت مولانا عبدالحلیم (صدرِ المدرسین ) بھی دارالعلوم حقانیہ کے شیوخ میں نمایاں مقام رکھتے تھے ہم دونوں کا تعلق بھی ایک علاقے ضلع صوابی سے تھا۔ ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں تقریباً پانچ سال (۱۹۷۷۔۱۹۸۲) تک مجھ پر غزل گوئی کا بت سوا رتھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ۱۹۷۷ء میں جب میں نے پشتو کی پہلی غزل لکھی تو میں نے وہ غزل اپنے ایک قریبی رشتہ دار مولانا فضل حق ممتاز اورفانی صاحب کو اصلاح کے لئے دے دی تو دونوں نے خوب حوصلہ افزائی فرمائی ۔مولانا فضل حق ممتاز مرحوم _____________________ * گورنمنٹ ڈگری کالج چھوٹا لاہور‘ صوابی