ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
تحریر اور الحق کے حوالے سے ان کی سلیقہ مندی کے معترف بلکہ رطب اللسان رہے اکثر کہا کرتے مولانا راشد الحق جرائد کی دنیا میں واحد مدیر ہیں جو قلم سے نہیں لکھتے کمپوزر کے ساتھ بیٹھ کر بولتے جاتے ہیں اور کمپوزر اسے لکھتا جاتا ہے جب فارغ ہوتے ہیں تو ایک شہ کار اور جاندار اورادبی معیار اور موضوع وحالات کے حوالے سے تیر بہ ہدف شہ پارہ تیار ہوجاتا ہے ۔ فانی صاحب جہاں ایک اچھے ادیب‘ عظیم شاعر‘ ایک لائق مدرس‘ بہترین مصنف اور کامیاب اتالیق تھے وہیں ایک اچھے انسان‘ بے ضرر مسلمان‘ کریم النفس‘ ہنس مکھ مزاج‘ کھلے دل کے مالک اور بلند اخلاق عالم دین بھی تھے اجتماعی معاملات ‘ خاندانی حالات‘ بلکہ زندگی کے ہر موڑ میں بردبار اور حلیم تھے ۔ … 0 … 0 … 0 … جامعہ دارالعلوم حقانیہ سے فراغت اور جامعہ میں تقرر کے ساتھ ہی استاذی المحترم مولانا سمیع الحق مدظلہم نے ان کو قلم پکڑنا سکھایا مضمون نگار بنے ، شعروادب کے اداشناس بھی ‘ سوانح نگار بھی ‘ ادیب بھی ‘ شارح بھی ‘ اور ماہنامہ الحق کے خصوصی وقائع نگار بھی ، وہ فارغ التحصیل ہوئے ، تحصیل علم کے مراحل سے گذر کرحقانیہ میں مدرس کیا لگے ، کہ یہیں کے ہو کر رہ گئے حقانیہ کی روایات کے رازدان‘ اس کی حمیت کے دیدبان ‘ اس کی عزت کے نگہبان اور اس کی آبروں کے پاسباں بن کر ساری زندگی گزار دی ۔ شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق اور شیخ الحدیث مولانا انوارالحق جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے مشائخ‘ حقانی برادری سمیت علمی وادبی حلقے ان کے ادب وانشاء کے معترف رہے ۔ ان کی تحریروں میں سلاست ‘ روانگی ‘ شگفتگی اور پختگی ان کے اسلوب کا امتیازی رنگ ہوگیا تھا وہ اپنی تحریروں میں‘تصنیف وتالیف میں ‘ منظوم کلام میں ‘ اور مضامین کی بے ساختگی میں عالمانہ رنگ اور عالمانہ رنگ میںادیبانہ ترنگ اور ان میں وزن اور وزن میں نکھار پیدا کرتے رہے ۔ اپنے ہر مضمون میں ‘ تصنیف میں اور کلام میں حقانی دبستان کے انداز بیان اور مسلک ومشن کا پورا لحاظ رکھتے ، خود شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق صاحب کو بھی ان کی ادبی خوش مذاقی اور تصنیفی خوش سلیقی پر بڑا بھروسہ تھا ۔ میری تحریروں میںبھی بڑی دلچسپی لیتے تھے اس حوالے سے انہیں مجھ سے بڑی بے تکلفی تھی ان کی جچی تلی رائے ‘ نقد وجروح اور ترمیم واضافہ کی تجاویز کو میں سن کو خوش ہوتا ، ان کو اپنی تحریر دکھانے اور انہیں اپنی کتاب پیش کرنے میں مجھے بڑی فرحت بلکہ لذت ملتی ، اگر وہ پسند کر لیتے تو اسے اپنی محنت کو اصلی صلہ سمجھتا پھر مجھے یہ فکر نہ رہتی کہ کوئی دوسرا کیا رائے رکھے گا ۔ … 0 … 0 … 0 … شکل وصورت میں وجاہیت تھی چہرہ بڑا باوقار تھا اور آنکھوں میں علم کا نوراور زبان، علم وادب سے معمور تھی ۔ وہ جس مجلس میں شریک ہوتے محبت وعزت کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے انہوں نے بڑی علمی ‘ ادبی ‘ قلمی ‘