ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
کے منصب ِ جلیل پر فائز ہوئے ۔ … 0 … 0 … 0 … روزِ اوّل سے ماہنامہ الحق سے وابستہ ہوئے، اپنے محسن ومربی شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق مدظلہٗ کی سرپرستی میں ان کا قلمی ‘ علمی اور ادبی فیض جاری رہا ۔ مؤتمر المصنّفین ‘ ماہنامہ الحق اور مدیر الحق کی رفاقت وصحبت کا یہ ثمرہ ظاہر ہوا کہ وہ بڑے وسیع المثرب اور نئے اور پرانے طبقوں میں نہات مقبول اور خاص عزت واحترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے جب شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق کی مصروفیات بڑھ گئیں اور مجھے ماہنامہ الحق کی خدمت کا موقع ملا ۔ تب بھی سولہ (۱۶) سال تک مولانا فانی نے دست وبازو بن کر میرے ساتھ کام کیا ‘ معاصرت‘ رقابت‘ حسد‘ کینہ اور بغض وعداوت جیسی باطنی بیماریوں سے محفوظ رہے مجھے یہ کہنے میں کوئی تأمل نہیں کہ وہ علوم ظاہری کے ساتھ باطنی کمالات سے بھی آراستہ تھے میں انہیں درویش کامل سمجھتا تھا فقرو درویشی کی شرابِ طہور نے انمیں بڑی کیفیت اور مستی پیدا کردی تھی جس کا اثر ان کے شعرو سخن اور معاملات میں نمایاں تھا ۔ … 0 … 0 … 0 … اس کی ایک ادنیٰ مثال ادبی حوالے سے ان کی معرکۃ الآراء کتاب ’’نقوشِ حقانی ‘‘ ہے وہ میرے معاصر تھے ، مخدوم زادے بھی‘ ادیب بھی ‘ صاحب علم وقلم بھی ‘ اور مجھ سے ہر لحاظ سے کروڑ چند بڑھ کرصلاحیتوں اورعظمتوں کے مالک تھے ۔ مگر ان کے دل میں داعیہ پیدا ہوا اور قلیل ترین مدت میں میری چند ابتدائی قلمی کاوشوں پر ایک مستقل کتاب تالیف فرمائی حالانکہ تحریری حوالے سے وہ میرے آغازِ کار کا زمانہ تھا ۔ وہ میرے مخدوم زادے تھے میں ان کی خدمت کو سعادت سمجھتا تھا مگر ان کی فطری نہاد شفقت تھی تشجیع تھی وہ مجھ سے بے حد شفقت ‘ تواضع سے پیش آتے تھے یہاں تک شفقت بلکہ شفقات کہ مجھے ان کی ہمہ جہتی نوعیت کے عنایات سے شرمندہ ہونا پڑتا تھا مرحوم نے میری اکثر کتابوں پر ارتجالاً ومنظوم تاثرات لکھے اور وہ اتنے ادبی اور جاندار اور بلند معیار کے تھے کہ ارباب علم ودانش عش عش کر اٹھے،’’ شرح صحیح مسلم‘‘ کی پہلی دو جلد چھپنے جارہی تھیں کہ مسودات پر ان کی نظر پڑ گئی ورق الٹتے رہے دعائیں دیتے رہے دوسرے روز منظوم تأثرات کیا لکھے کہ بحر ِعشق ومحبت رسول ا میں ڈوب کر لکھے اور پھر فرمایا میرا یقین ہے کہ یہ میری مغفرت کا سامان بنے گا فرمایا اگر یہ منظوم تأثرات……پر اس کتاتب ہو جائیں تو میں اسے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے کتب خانے میں رکھواؤں گا تاکہ یادگار رہے اور میرے ایمان کی شہادت بھی ، چنانچہ کے حسب ہدایت ………پر لکھوا انہیں بھیج دیے گئے جو انہوں نے بڑے اہتمام سے جامعہ حقانیہ کے کتب خانے میں لگوادیا ۔ جب سے مولانا راشد الحق سمیع حقانی نے ماہنامہ الحق کی ادارت سنبھالی ، مولانا فانی ہمیشہ ان کے کام