ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
کتابی ‘ درسی اور پاکیزہ زندگی بسر کی تاہم اپنی پاکیزگی میں یبوست اور خشکی نہیں آنے دی طبیعت کی شگفتگی آخر تک برابر باقی رکھی اپنے والد کی طرح دارالمدرسین کے ایک برآمدہ اور دو کمروں کی چھوٹی سی عمارت میں پوری زندگی بسر کردی فرماتے اس گھر میں جو راحت ملتی ہے وہ اپنے گھر میں بھی محسوس نہیں ہوتی ۔ … 0 … 0 … 0 … ذرائع آمدنی توکّل علی اللہ تھا دارالعلوم سے جو بقدر کفاف تنخواہ ملتی تھی اس پر قائع رہ کر ساری زندگی گزاردی ۔ راقم جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں ان کے یہاں چار سال بعد آیا مگر ہم دونوں تقریباً سولہ سال تک دارالعلوم حقانیہ میں اور میرے جامعہ ابوہریرہ آنے کے بعدمجموعی اعتبار سے تقریباً تیس اکتیس سال تک لازم وملزوم رہے ایک جان دو قالب بلکہ عرض وجوہر بن کررہے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے زمانہ میں تو یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہوتا کہ کون لازم ہے کون ملزوم ‘ کون جان ہے اور کون قالب ‘ امیر خسرو کا یہ شعر جو مشہور ہے کہ … ؎ تو من شدی من جاں شدم تو تن شدی تاکس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری جس میں امیر خسرو نے من وتو اور جان وتن کی تفریق مٹا کر من دیگرم تو دیگری کا سوال ہی ختم کردیا ہے ہم دونوں مؤتمر المصنفین اور ماہنامہ الحق اور دارالعلوم حقانیہ کی زندگی میں اس طرح رہے کہ انہوں نے اپنے کو میرے لئے اور میں نے اپنے کو ان کے لئے مٹایا ، ان کے غصے پر مجھ کو پیار آتا اور میرے پیار پر ان کو غصہ آتا ، کوئی تیس برس تک ہم دونوں کا تعلق مثالی رہا ، وہ اس دنیا سے خوش گئے ہوں گے ، مجھ سے ان کو کوئی شکایت نہیں ہوئی اور مجھ کو فخر ہے کہ میری ذات سے ان کو آخر وقت تک کوئی تکلیف نہیں پہنچی اور اب … ع نہ دماغ ہے نہ فراغ ہے نہ شکیب ہے نہ قرار ہے وہ میرے بہت کچھ تھے مخدومزادے بھی اور مخدوم بھی ، قریبی دوست بھی ، عزیز بھائی بھی ، مشیر،رفیق کار ، ہمدم ودمساز ‘ اور مخلص دوست ۔اب وہ نہیں رہے تو میں اپنے کو کچھ بھی نہیں پاتا ۔ ع فریاد کہ غم دارم وغم خوار نہ دارم … 0 … 0 … 0 … حضرت فانی صاحبؒ علمی مجالس میں بلبل ہزار داستان تھے جہاں بیٹھے ہوتے وہیں چھائے رہتے ، تفسیر‘ حدیث ‘ فقہ ‘تصوف‘ تاریخ ‘ ادب ‘ تذکرے ‘ تبصرے ‘ عالمی حالات‘ …سیاست اور تازہ ترین واقعات ‘ شعروسخن‘ غالب ‘ مومن‘ اقبال ‘ الغرض ہمہ جہتی موضوعات پر ایک سانس میں گفتگو کر کے سامعین کو ساکت وصامت بنائے رکھتے ، ان سے ملنے کے بعد یہ احساس ہوتا کہ ان کے جسم کے کسی حصہ کو چھو لیجئے تو علم وادب ‘ شعروسخن اور