ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
فارسی نظم برادرِ مکرم حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی نے سنائی، جس پر حضرت مولانا سمیع الحق مدظلہٗ بہت محظوظ ہوئے۔ اس موقعہ پر حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالحق صاحب قدس سرہٗ بھی تشریف فرما تھے۔ وہ نظم درج ذیل ہے، جبکہ یہ نظم الحق بابت نومبر ۱۹۸۲ئ میں شائع ہوچکی ہے۔ (فانی غفرلہٗ) مرحبا اے زائر بیت الحرم خوش آمدی مرحبا اے استاذ محترم خوش آمدی مرحبا از مسکنِ محبوبِ ربّ العالمیں مرحبا از مدفنِ محبوبِ ربّ العالمیں مرحبا از مولدِ شمس الہدیٰ بدر الدجیٰ مرحبا از مرقد خیر الوریٰ صدر العلٰی مرحبا اے نورِ چشم شیخ و مولانائے ما حج تو مبرور افتد بر درِ مولائے ما مرحبا خوش آمدی از مہبط روح الامیں از حریم مکہ و از وادئی بطحائے ما مرحبا از روضۂ ختم الرسل محبوب کہل و ز ریاض رشکِ جنت جنۃ المأوائے ما مرحبا از کوئے آں یارے نگارے خوشترے آں حبیبے آں طبیبے جملہ علّتہائے ما مرحبا از جلوہ زارِ کعبہ و اُم القریٰ آں خنک شہرے کہ بروئے جان و دل شیدائے ما رحم کن مولا بہ فانیؔ عاجز و بیچارۂ برطفیل مصطفیؐ آں شاہد زیبائے ما مرحبا از موردِ شمس الہدیٰ بدر الدجیٰ مرحبا از مسجد خیر الوریٰ صدر العلٰی مرحبا از گلشنِ محبوب رب العالمیں مرحبا از موطن محبوب رب العالمیں مرحبا اے صاحبِ معجز قلم خوش آمدی از دیارِ سیّدِ فخر اُمم خوش آمدی والد محترم کے ادارتی تحریر ’’اسفارِ حج وعمرہ ‘‘ سے متاثر ہو کر عشق ووارفتگی کی تسنیم وکوثر میں ڈوبی ہوئی مکتوب ارسال کیاہے قارئین اس سے بھی حظِ وافر حاصل کریں ۔ وارداتِ قلب و جگر: برادرِ محترم ومکرم حضرت مولانا عبدالقیوم صاحب حقانیؔ زید مجدہٗ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ ! اُمید ہے مزاجِ گرامی بالخیر ہوں گے۔ ملاقات کے دوران ماہِ جنوری کے شمارۂ القاسم کا تذکرہ چھڑ گیا تھا، جیسا کہ راقم نے عرض کیا تھا کہ بندہ نے سرسری طور پر مضامین کے موضوعات اور عنوانات کا مطالعہ کیا ہے۔ ابھی بالاستیعات نہیں دیکھا ہے، واپسی پر پرچہ اُٹھایا، اور ادارتی تحریر جو کہ سفر حج کے متعلق ہے اس کا مطالعہ شروع کیا۔ واہ عقیدت و محبت اور عشق و وارفتگی کی تسنیم و کوثر میں ڈوبی ہوئی ایک