ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
دلکش و دلربا اور حسین و دلنشین تحریر‘ جس سے مشامِ روح و جاں اور دل و دماغ معطر ہوئے بلکہ دل ناصبور کو جذب و کیف اور دنیائے وجد و شوق کی پُربہار وادی میں پہنچا دیا۔ پرنم آنکھوں اور اشک آلودہ نین سے اسی تحریر دلپذیر سے بصارت اور بصیرت کو ٹھنڈک پہنچاتا رہا۔ ماشاء اللہ اس کے پڑھنے سے دل پر جو روحانی کیفیت طاری ہوئی اور وجدان و ذوق نے جو طراوت اور بالیدگی محسوس کی وہ بیان سے باہر ہے بلاشبہ یہ تحریر ادبِ عالی کا ایک حسین مرقع و مرصع ہے اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ … ؎ تمام شب تری تحریر نے سونے نہ دیا اسی کے کیف نے تاثیر نے سونے نہ دیا عجب انداز میں یہ ِ قلب و جگر وفورِ شوق کی تعبیر نے سونے نہ دیا دلِ بے تاب کی وارفتگی کا حال نہ پوچھ مقامِ عشق کی تفسیر نے سونے نہ دیا ادبِ عالی کا فانیؔ یہی ہے تاج محل مجھے اس شوکتِ تعمیر نے سونے نہ دیا ٭ ٭ ٭ زندہ ہوں لیکن شہید عشق بھی یہ حیات جاودانی اور ہے ہوں مرید میر و غالب شعر میں پھر بھی لیکن رنگِ فانیؔ اور ہے (فانیؔ) روز و شب گاتا تھا جو نغمے تمہاری یاد میں وسعت صحرا میں وہ نغمے فنا ہوتے گئے (فانیؔ)