ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
حیا نہیں کرتا۔ (۱۸) ایک دفعہ مجلس میں کارکنوں کی تربیت کے بارے میں فرمایا کہ آج کل تربیت کا فقدان ہے۔ کارکن ہمارا ہے لیکن کسی اور کے لیے استعمال ہو رہا ہے‘ اس لیے ہماری قوت منتشر ہے۔ ہماری جماعت پروپیگنڈے کا شکار ہے۔ پرایا تو پرایا اپنے بھی ہماری کردار کشی کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود آفرین ہو ہمارے کارکنوں پر کہ پروپیگنڈے کے باوجود متزلزل نہیں ہوتے۔ کارکنوں پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تربیت یافتہ نظریاتی بن جائو۔ اپنے نظریئے کے مخالف کو لگام دینی چاہیے۔ جمعیت طلباء اسلام کے ذمہ داران کو چاہیے کہ تربیتی کنونشن منعقد کیے جائیں تاکہ کارکن تربیت حاصل کریں اور کارکن ضائع نہ ہوں۔ فرمایا اگر آپ تربیت یافتہ اور نظریاتی بن جائیں تو دُنیا کی کوئی طاقت آپ کو شکست نہیں دے سکتی۔ اگر آپ نظریاتی ہو تو مخالف بھی آپ کو تسلیم کرے گا۔ جذبے کے مقابلے میں نظریئے کو ترجیح دینی چاہیے۔ آپ کے جذباتی ہونے میں حکومت کو اور باطل قوتوں کو فائدہ ہے۔ فرمایا کہ ہم نتیجے کے مکلف نہیں‘ جدوجہد کے مکلف ہیں‘ ہمیں اپنی جدوجہد کا اجر ملے گا۔ (۱۹) کتاب سنن نسائی و مؤطائین کے اختتام پر وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا و من احسن قولا ممن دعا الی اللّٰہ و عمل صالحا و قال اننی من المسلمین۔ فرمایا کہ اب آپ علمی زندگی سے عملی زندگی کی طرف جا رہے ہو۔ دُنیا میں بہت سے فتنے ہیں‘ آپ عوام کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرو گے۔ مذکورہ آیت ایک مغز ہے‘ اس کو پورا پورا اپنے عمل میں لائو۔ فرمایا کہ ہم کون ہیں‘ ہماری کیا نسبت ہے لیکن بڑوں سے نسبت ہے۔ اس موقع پر یہ شعر ارشاد فرمایا برے ہیں یا بھلے ہیں دو چار قدم چلے ہیں نسبت حقانیہ کی لاج رکھو‘ اس کا عقیدہ بھی آپ کو معلوم ہے۔ مسلک اعتدال پر چلو۔ اپنے اکابر‘ اپنے اساتذہ پر اعتماد اور احترام کرو۔ احترام اور اعتماد کا یہ رشتہ ٹوٹ نہ جائے۔ آخر میں دورۂ حدیث کے تمام طلباء کو سند حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی اور اپنی پوری سند بیان فرمائی اور اپنے اساتذہ کا ذکر کیا کہ کس اُستاد سے کون سی کتاب پڑھی ہے (جو کہ میں نے ابتداء میں ذکر کیا ہے) وعظ و نصیحت کے بعد دُعا کی اور رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ اُستادِ محترم دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ (۲۰) ایک دفعہ تحدیث بالنعمۃ کے طور پر کہا کہ تمام اسناد میں صرف میری سند ہے کہ جس میں حضرت انور شاہ کشمیریؒ کا واسطہ آتا ہے اور کشمیریؒ کے واسطے سے حضرت شیخ الہندؒ تک پہنچتا ہے۔