ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
مولانا حافظ ابن امین* اپنے ذہین شاگرد حافظ ابراہیم فانی ؔ کے نام چند کلمات احقر حافظ ابن امین کی خوش نصیبی تھی کہ میٹرک امتخان پاس کرنے کے بعد 1962ء میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں درجہ کتب میں داخلہ لیا۔اور ناظم سلطان محمود مرحوم کی تجویز پر جناب شیخ الحدیث مولانا عبدالحق صاحبؒ کی مسجد میں اقامت پذیر ہوا۔جہاں حافظ مظفردین صاحب نماز عصر کے بعد طلباء کرام کوحفظ القرآن الکریم کادرس دیتے ہوئے پایا۔ جس میں حالاً نائب مہتمم مولانا انوار الحق صاحب بھی شریک درس تھے۔ انتہائی منت سماجت کے بعد مجھے بھی حفظ القرآن کے شاگردوں میں شامل کیا۔اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل وکرم سے ایک سال چار ماہ میں کتب کے ساتھ حفظ القرآن کی سعادت نصیب ہوئی۔ اور دارالعلوم حقانیہ کے دیگر اساتذہ کرام کی موجودگی میں شیخی وشیخ الحدیث حضرت مولاناصاحب کے سامنے آخری سورتیں پڑھنے کاشرف پایا۔اور ان کے مستجاب دعاؤں سے جھولی بھردی۔ 1964ء میں دارالعلوم کے کمروں میں سکونت نصیب ہوئی۔تونماز عصر کے بعد دارالعلوم کے چمن میں حفظ القرآن کے طلباء سے دور اورحفظ کے درس کاموقعہ ملا۔ اس زمانے میں دارالعلوم حقانیہ میں حفظ القرآن کاکوئی بندوبست نہیں تھا۔سوائے ایک طالبعلم قاری کے جوشوقین طلباء کوصرف سورۃ فاتحہ وناظرہ قرآن کی تصحیح کرواتے تھے۔ ایک دن عصر کے بعد حفظ القرآن کے درس میں مشغول تھا کہ جناب صدر صاحب مولاناعبدالحلیم مرحوم غصے کے ساتھ محمدابراہیم کوہاتھ سے پکڑے ہوئے آئے میں بھی ڈرا کہ کیاہوا ہے۔تواس نے اپنے مخصوص لہجے میں فرمایاکہ یہ نہیں سنتا ،سکول کے بعد آوارہ وقت گزارتاہے جس کسی کے پاس اس کو بٹھا لیتاہوں وہ استاد اس کی قدر کرتاہے کہ میرابیٹا ہے۔ کچھ نہیں کہتا ایک دو سال سے کبھی حفظ شروع کرلیتاہے۔پھرچھوڑ کر بھلادیتاہے۔’’خوب مارو لیکن حافظ ِقرآن بنالو‘‘شاید محمدابراہیم اس وقت آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔چھوٹو ں سے کھیلنے کادلدادہ تھا۔میں نے چار وناچار اس پرپابندی شروع کی ۔کافی ذہین تھالیکن حفظ القرآن کیلئے اس کووقت دینا مشکل تھا چنددفعہ ناغہ ____________________ * مہتمم جامعہ امینیہ تخت نصرتی ،کرک ز