ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
کے ماہنامہ ’’پیام حق‘‘ کے لئے ایک عرصے تک حرف آغاز لکھتے رہے۔ فانی صاحب کی آواز وانداز میں بلا کی تاثیر تھی‘ گفتار وکردار کے آدمی تھے ‘ بولنے پہ آتے تو بڑے بڑے لوگ ہمہ تن گوش ہوجاتے‘ کشمیری حافظہ تھا‘ موقع اورمحل کے مطابق عجیب وغریب واقعات اور عربی فارسی اشعار سناتے۔ تحریر کے میدان میں قدم رکھتے تو قلم کا جادو چلتا اوراپنے ہاتھ سے ایسا خط لکھ جاتے کہ اسکے سامنے کمپیوٹر کا نستعلیق شرما جاتا۔ دارالعلوم حقانیہ کی اکثر اسناد حدیث کی خالی جگہوں میں فضلاء کے نام وغیرہ حضرت فانی صاحب کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں ۔ دارالعلوم حقانیہ کے اساتذہ کرام‘ شیوخ عظام او رخصوصاً حضرت مولانا سمیع الحق صاحب ‘ مولانا انوارالحق صاحب حضرت شیخ مغفور اللہ مدظلہ او رحضرت والد مرحوم کے ساتھ ان کا تعلق قابل رشک رہا۔ ہر کسی کو عزت و تکریم سے نوازتے اور خود بھی معزز ومکرم رہ کر دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ میرا ذہن اس بات کے لئے تیار نہیں ہورہا کہ حضرت فانی صاحب مرحوم اب اس دنیا میں نہیں رہے‘ نہیں مانتا کہ فانی صاحب اب شعر نہیں سنائیں گے‘ کافیہ نہیں پڑھائیں گے‘علمی لطائف کے جواہر نہیں بکھیریں گے ‘شاہ منصور ان کا آنا جانا نہیں رہے گا۔ دارالعلوم حقانیہ کے درودیوار اب فانی مرحوم سے خالی رہیں گے ۔مگر کیا کروں؟ ہے تو یہ حقیقت کہ حضرت فانی صاحب اب دار فانی سے کوچ کرگئے ہیں۔ میں نے خود ان کے جنازے کی تیسری صف میں کھڑے ہوکر شرکت کی ہے مگر علامہ کا ایک شعر جو میں نے فانی صاحب سے پہلی بار سناتھا‘ اپنی اور قارئین الحق کی تسلی اور اطمینان کا باعث سمجھتا ہوں۔ موت کو سمجھا ہے غافل اختتام زندگی ہے یہ شام زندگی صبحِ دوام زندگی ہمارا ایمان ہے کہ فانی صاحب انتقال کرگئے ہیں‘ ہم بھی انکے پیچھے جانے والے ہیں‘ وہاں ان شاء اللہ ہماری ان سے ملاقات رہے گی۔پھر نہ موت جیسا تلخ لفظ سننے میں آئے گا نہ فانی صاحب سے جدائی کا خدشہ واندیشہ رہے گا۔ لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون اوراپنے دوستوں ‘طالب علموں‘ فانی صاحب کے رشتہ داروں ‘برخورداروں‘ دارالعلوم حقانیہ کے شیوخ اور شاعروں ‘ادیبوں کو یہ خوشخبری سنا کر اپنی بات ختم کردوں کہ حضرت فانی صاحب سے دائمی ملاقات کے لئے ایک ماہ کا عرصہ کم ہوگیا۔اللہ تعالیٰ ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے اوران کے پسماندگان اور ہم سب کو صبر جمیل اور اجرجزیل عطا فرما دے۔آمین یا رب العالمین ٭ ٭ ٭