ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
باقاعدہ رابطہ قائم ہوگیا۔ اکثر ان کی بیٹھک میں اور خصوصاً بعد از نماز عصر تامغرب دریائے کابل کی طرف واک کے دوران ان کی شاعری اور علمی وادبی باتوں کو سنتا رہتا۔ فانی صاحب بڑے بے تکلف انسان تھے‘ میںنے کبھی بھی یہ محسوس نہیں کیا کہ دارالعلوم حقانیہ کے کسی اعلیٰ پائے کے استاد سے مخاطب ہوں یا اپنے سے ۸سال بڑی عمر کے کسی انسان سے ‘فانی صاحب بڑوں کے ساتھ بڑے اور چھوٹوں کے ساتھ … گویا اس حدیث کے مصداق تھے۔من لم یرحم صغیرنا ولم یوقرکبیرنا فلیس منا‘ ان کی اعلیٰ ظرفی کا عالم یہ تھا کہ انہو ں نے کبھی بھی مجھے نام سے نہیں پکارا۔ ہمیشہ مجھے صاحب حق صاحب اور میں انہیں فانی جان کے الفاظ سے مخاطب کرتاتھا۔ جنوری ۱۹۹۳ء میں میرا تبادلہ واپس لاہور کالج ہوگیا۔ اور یوں پھر ہمارے رابطے کمزور ہوگئے۔تاہم یہ رابطہ کہ کبھی میں دارالعلوم حقانیہ اور کبھی فانی صاحب شاہ منصور تشریف لاتے تھے۔مرض موت تک بحال رہا ۔ اللہ کی شان دیکھئے ۱۲ /اپریل ۲۰۰۸ء میں مَیں اور مولانا ادریس چیئرمین امہ ویلفیئر ٹرسٹ کہیں جارہے تھے۔راستے میں مولانا نے فانی صاحب سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ حیرت ہوئی کہ مولانا ادریس اور فانی صاحب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ مگر بعد ازاں معلوم ہوا کہ مولانا ادریس کی ان سے ۱۹۸۵ء میں ایک ملاقات ہوچکی تھی۔مولانا نے بتایا کہ مفتی نظام الدین شامزئی مرحوم میرے استاداور مخدوم تھے۔ حضرت فانی صاحب کی شاعری سے اتنے متاثر تھے کہ اکثر سفر کے دوران وہ فانی صاحب کی شاعری سناتے اور ہم سنتے جاتے۔فانی صاحب کی شاعری کا ایک قابل ذکر حصہ ان کو ازبرتھا۔ یوں غائبانہ فانی صاحب کے نام او رکام سے تو میں واقف تھا۔۱۹۸۵ء کے دورہ حدیث کے وفاق کے امتحان کے لئے پہلی بار حضرت مفتی شامزئی مرحوم ممتحن کے طورپر دارالعلوم حقانیہ تشریف لائے‘ مولانا ادریس کے بقول حضرت شامزئی صاحب مرحوم کے ساتھ مہمان خانے میں ۶ دن تک مستقل رہنے والا خادم میں ہی تھا۔ اوریوں حضرت کی محفل میں فانی صاحب سے مولانا ادریس کی پہلی ملاقات ہوچکی تھی۔ پھر اس کے بعد حضرت فانی صاحب مرحوم کی امہ اور مولانا ادریس کے ساتھ آخری دم تک پکی یاری ہوگئی۔ یہاں تک کہ مرض الوفات کا جب فانی صاحب پر حملہ ہوا تو مولانا ادریس اتفاقاً انگلینڈ سے اسی دن پاکستان تشریف لائے تھے۔ جب مولانا ادریس کو پتہ چلا کہ فانی صاحب بیمار اور گاڑی کے انتظار میں ہیں توانہوں نے امہ ویلفیئر ٹرسٹ کی ایمبولینس بھیج کر پشاور لے گئے۔یوں یہ گویا تیسرا مرحلہ تھا جب مولانا ادریس کی وساطت سے فانی صاحب مرحوم سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔فانی صاحب مرحوم چونکہ نثر کے بھی اچھے لکھاری تھے‘ یوں میری درخواست پر امہ چلڈرن اکیڈمی