ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
کچھ گزارشات خصوصی اشاعت کے بارے میں قارئین اور مضمون نگار حضرات کے درمیان حائل ہوئے بغیر اس خصوصی اشاعت کے حوالے سے چند اہم باتیں گوش گزار کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ٭ یہ ماہنامہ ’’الحق‘‘ کا حضرت دادا جان شیخ الحدیث مولانا عبدالحق ؒکے بعد دوسرا وفیات نمبر ہے‘ جو حضرت مولانا محمد ابراہیم فانی صاحبؒ اور حضرت مولانا سید رحیم اللہ باچا صاحب کے تذکرہ وسوانح پر مشتمل ہے۔ ٭ ہمیں اپنی کم علمی ‘ کج فہمی اور کم مائیگی کا بھرپور اعتراف ہے کہ یہ نمبر ان ہر دوشخصیات کی عظمت کے پیش نظر کسی طرح کا بھی شایان شان نہیں مگر دوماہ کے مختصر عرصے اور محدود وسائل میں اس سے زیادہ ہمارے لئے ممکن نہ تھا۔ ٭ مضامین میںمکررات، صفحات کی تنگ دامنی اور قارئین کے مسلسل رابطوں کی وجہ سے تمام مضامین میں حُک و اضافہ، حشو و زوائد اور تکرار ختم کرنا مجبوری بن گیاتھا، جس کیلئے میں اپنے باذوق اورمخلص لکھاریوں کیلئے تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔ امید ہے وہ میری اس جسارت کومعاف فرمائیں گے۔ ٭ آخر میں اپنے تمام باذوق اہل قلم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اتنی قلیل مدت میں اتنی کثیر تعداد میں اپنی قیمتی نگارشات وتاثرات لکھ کر ارسال کیں۔ اسی طرح برادرم مولانا محمد اسرار مدنی صاحب بھی خصوصی شکریے اور دادِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے دن رات مسلسل اِس نمبر کیلئے کام کیا اورمیرے جیسے مجروح و محزون کیلئے سہولت فراہم کی اور مختصر وقت میں اسکی اشاعت اورپریس کے اُمور کا بیڑا اٹھایا۔ اللہ تعالیٰ انہیں نظرِ بد سے محفوظ رکھے اور ان کی صلاحیتیوں میں مزید نکھار پیدا ہو۔ اسی طرح استاد محترم حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی صاحب کا بھی انتہائی ممنون ہوں کہ نظرثانی فرما کر چند اہم مفید مشوروں سے رہنمائی او رتشجیع فرمائی۔ خصوصیت کے ساتھ جناب بابر حنیف صاحب جنہوں نے آدھی راتوں کو بیٹھ کر کمپوزنگ کی اور مولانا محمود زکی ، مولانا شوکت علی،مولانا محمد اسلام حقانی وحاجی نثار صاحب کی کاوشیں بھی قابل تحسین ہیں۔ امید ہے غم و یاس کی فضا میں بے سروسامانی اور عجلت میں تیارکردہ خصوصی نمبر قارئین قبول فرمائیں گے۔ مرے قلم میں ادیبوں کی آب و تاب نہیں متاعِ دیدہ خوناب لے کہ آیا ہوں