اور میں نے ان امدادوں میں ایک طویل زمانہ صرف کیا ہے۔ یہاں تک کہ گیارہ برس انہیں اشاعتوں میں گزر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔ پس یہ دعویٰ کر سکتا ہوں۔ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدانے مجھے بشارت دی اور کہا کہ ایسا خدا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو پس گورنمنٹ کی خیرخواہی اور امداد میں کوئی دوسرا میری نظیر اور مثل نہیں اور عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی۔ اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔‘‘
قبل اس کے ہم خود مرزاقادیانی کی خون ریزی اسلام والمسلمین کا ثبوت اور خود ان کا تعارف خود مرزاقادیانی کے قلم اور زبان سے اہل انصاف سے کرائیں۔ مرزاقادیانی کے والد صاحب اور مرزاقادیانی کے برادر کلاں کے کارناموں کو ذرا ناظرین ملاحظہ فرمائیں۔ مرزاقادیانی کا یہ جملہ قابل غور ہے۔ ’’ولم یزل کان ابی مشغوف الخدمات حتیٰ شاخ وجاء وقت الوفات کہ میرے باپ کو ساری عمر مرنے تک انگریز کی خدمت کا عشق رہا ہے۔ میرے باپ نے جو انگریز کی خدمات انجام دی ہیں۔ میں ان کے لکھنے سے عاجز اور قاصر ہوں۔ میرا باپ تمام خدمات گزاروں سے سبقت لے گیا اور خاص کر دلی کے فساد کو مٹانے کے واسطے جب انگریزوں پر نہایت نازک وقت تھا میرا باپ معہ پچاس گھوڑوں اور پچاس سواروں کے انگریزوں کا ممدو معاون ہوا۔ میرے باپ کے پاس حکومت کا دل اور جان سے خیرخواہ ہونے کی چٹھیاں تھی۔‘‘
ناظرین ۱۸۵۷ء کی وہ جنگ جو مسلمانوں نے انگریز کے خلاف لڑی جس کو انگریزوں نے بے ایمانی سے غدر سے موسوم کیا وہ ایک آخری خون تھا۔ جو ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے مذہب اور ملک کو آزاد کرانے کے واسطے بہایا۔ آخر مرزاقادیانی کے والد اور اسی وضع قماش کے پنجابیوں کی وجہ سے مسلمانوں کو شکست ہوئی اور انگریزوں نے آکسفورڈ کے چند پروفیسروں سے ایک کتاب لکھوائی۔ محض جھوٹ اور بہتان گھڑ کر دنیا میں ثابت کرنا چاہا۔ ۱۸۵۷ء میں ہندوستان کی جنگ میں مسلمان ظالم اور باغی تھے اور انگریز بالکل معصوم اور حق بجانب تھے۔ اس کے جواب میں ایک ٹامس نام انگریز نے نہایت معتبر ذریعہ اور باوثوق حوالہ جات سے ایک کتاب