ختم نبوت یعنی ذات محمدی پر ہر قسم کی نبوت ختم ہو جانا امت کا اجماعی عقیدہ ہے اور جو اجراء نبوت کا اب بھی قائل ہے۔ اہل تحقیق نے تصریح کردی ہے کہ وہ اجماع امت سے زندیق بلکہ مرتد ہے۔ لفظ خاتم میں دو قرأتیں ہیں۔ امام حسن اور عاصم کی قرأت خاتم بفتح التاء ہے اور دوسرے ائمہ قرأت خاتم بکسر التاء پڑھتے ہیں۔ حاصل معنی دونوں کا ایک ہی ہے۔ یعنی انبیاء کو ختم کرنے والے، کیونکہ خاتم خواہ بکسر التاء ہو یا بفتح التاء دونوں کے معنی آخر کے ہی آتے ہیں اور مہر کے معنی میں بھی یہ دونوں لفظ استعمال ہوتے ہیںا ور نتیجہ دوسرے معنی کا بھی وہی آخر کے معنی ہوتے ہیں۔ کیونکہ مہر کسی چیز پر بند کرنے کے لئے آخر ہی میں کی جاتی ہے۔
رسول اﷲﷺ کا خاتم النبیین ہونا اور آپؐ کا آخری پیغمبر ہونا، آپؐ کے بعد کسی نبی کا دنیا میں مبعوث نہ ہونا اور ہر مدعی نبوت کا کافر وکاذب ہونا ایسا مسئلہ ہے جس پر صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک ہر دور کے مسلمانوں کا اجماع واتفاق رہا ہے۔
ایک یہودی عالم نے حضرت عمرؓ کے سامنے اس پر بڑے رشک اور حسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ قرآن کی ایک آیت ہے۔ جس کو آپ لوگ پڑھتے رہتے ہیں۔ اگر وہ ہم یہودیوں کی کتاب میں نازل ہوئی ہوتی اور ہم سے متعلق ہوتی تو ہم اس دن کو جس میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اپنا قومی تہوار اور یوم جشن بنالیتے۔ اس کی مراد سورۂ مائدہ کی اس آیت: ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدہ:۳)‘‘ {آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے دین صرف اسلام کو منظور فرماکر راضی ہوچکا ہوں۔} سے تھی جس میں ختم نبوت اور تکمیل نعمت کا اعلان کیاگیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس نعمت کی جلالت وعظمت اور اس اعلان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا۔ صرف اتنا فرمایا کہ ہمیں کسی نئے یوم مسرت اور تہوار کی ضرورت نہیں۔ یہ آیت خود ایسے موقع پر نازل ہوئی ہے۔ جو اسلام میں ایک عظیم الشان اجتماع اور عبادت کا دن ہے۔ اس موقع پر دو دو عیدیں جمع تھیں۔ یوم عرفہ (۹؍ذی الحجہ) اور روز جمعہ۔ (مسند امام احمد ج۱ ص۴۸)
روایت صحیح بخاری، کتب صحاح وسنن، حدیث کے الفاظ مسند امام احمد بن حنبل کے ہیں۔ حدیث مذکور حسب ذیل ہے۔ ’’جاء رجل من الیہود الیٰ عمر بن الخطابؓ فقال